Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شادی نہ کرنے یا تاخیر سے کرنے والوں کیلئے لمحۂ فکریہ

شادی نہ کرنے یا تاخیر سے کرنے والوں کیلئے لمحۂ فکریہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نکاح کے اِس قدر کثیر فوائد اور ایسی زبردست تاکید کے باوُجُود کسی اہم اور خاص وجہ کے بغیر شادی نہ کرنا نہ صرف بہت سی محرومیوں کا  سبب ہے بلکہ اِس کی وجہ سے بدکاری جیسے گُناہ میں مبُتلاہونے کا بھی سخت اندیشہ ہے کیونکہ غیر شادی شُدہ شخص اگر چہ نکوکار اور پرہیز گار ہو مگر عورت اس کیلئے شیطان کے کامیاب ترین ہَتْھیاروں میں سے ایک ہَتْھیار ہے ، شیطان اپنے اِس ہَتْھیار کے ذریعے اُسے زیر کرنے اور گُناہ میں مبُتلا کرنے کی مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے اور اِس وجہ سے غیر شادی شُدہ نیک بندے کیلئے شیطان کے اِس وار سے بچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ، ذرا سوچئے کہ شیطان کے عورت جیسے خطرناک ہتھیار سے جب غیر شادی شُدہ نیک لوگوں کا بچنا مشکل ہے تو عام لوگوں  کا بچنا کس قدر دُشوار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا ، مکی مدنی مُصْطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نہ صرف حضرت سَیِّدُنا عکّاف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بلکہ سبھی کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اپنے آپ کو شادی سے محروم رکھیں ۔ چنانچہ 
حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  شادی کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور (بلا وجہ)شادی نہ کرنے سے سختی سے منع فرمایا کرتے تھے۔ (1)ہمارے اَسْلافِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام  کے نزدیک بھی بدکاری میں مبُتلا کرنے والے شیطانی ہتھکنڈے سے بچنے کا مؤثّر ذریعہ شادی ہی تھا  بلکہ اُن حضرات کے لئے رفیقۂ حیات کے بغیر جوانی گُزارنے کا تصوُّر کرنا بھی مشکل تھا۔ حضرت سَیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہی لے لیجئے کہ حدیثِ پاک کے مطابق جن کی نیکیاں ستاروں کی تعداد کے برابر  قرار دی گئی ہیں اور جنہیں دیکھ کر شیطان بھی راستہ تبدیل کرلیا کرتا  تھا۔ (1)مگر اِس کے باوُجُود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا کہ جوانی ہو اور بیوی نہ ہو اس بارے میں سوچ کر تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ، اگر مجھے یقینی طور پر معلوم ہوکہ زندگی کے صرف تین دن باقی بچے ہیں تب بھی (غیر شادی شُدہ رہنے کے بجائے) میں شادی کرلینا ہی پسند کروں گا۔ (2)اسی طرح حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایاکہ اگر میری زندگی کے صرف دس دن باقی بچے ہوں اور مجھے یقین ہو کہ دسویں دن موت آجائے گی تو اس وقت بھی (غیر شادی شُدہ رہنے کے بجائے) اگر شادی کی استطاعت ہوگی تو میں فتنے سے بچنے کیلئے ضرور شادی کروں گا۔ (3)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
________________________________
1 –   مسند احمد ، مسند انس بن مالک ، ۴ / ۳۱۷ ، حدیث : ۱۲۶۱۳
________________________________
1 –   بخاری ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب عمر بن الخطاب ، ۲ / ۵۲۶ ،  حدیث : ۳۶۸۳ ماخوذا
2 –   کنز العمال ، کتاب النکاح ، باب الترغیب فیه ، جزء : ۲ ، ۸ / ۲۰۴ ، حدیث : ۴۵۵۸۲
3 –   کنز العمال ، کتاب النکاح ،  باب الترغیب فیه ، جزء : ۲ ، ۸ / ۲۰۶ ، حدیث : ۴۵۶۰۲
error: Content is protected !!