Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

پہلا مقدمہ

    اُصولِ دین کے علم میں یہ بات ثابت شدہ ہے کہ کراماتِ اولیاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کوثابت کرنایہ اہلسنت کاطریقہ ہے اور یہ کہ نبی کا ہرمعجزہ ولی کے لئے بطورِ کرامت واقع ہوسکتا ہے اور ایسی کرامات جو اس اُمت کے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ جیسے صحابہ کرام، تا بعین عظام اور بعد میں آنے والے اولیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے صادر ہوئی ہیں وہ پچھلی اُمتوں میں سے کسی امت میں واقع ہوسکتی ہیں۔
    جوشخص بھی اس موضو ع پر لکھی گئی کتب اور سلف صالحین کے واقعات میں غور وفکر کریگااس پر ہماری ذکر کردہ یہ بات واضح ہوجائے گی ۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ کرامت جو کسی ولی کو اِتباعِ نبی علیہ السلام سے حاصل ہو وہ اس نبی علیہ السلام ہی کی طر ف منسوب ہوتی ہے جس کی وہ اتباع کرتا ہے اور یہ بھی اس نبی علیہ السلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہوتا ہے اس لئے کہ یہ کرامت اس ولی کو اس نبی علیہ السلام کی اتباع کرنے،ان پر ایمان لانے،ان کے لائے ہوئے ہر حکم کو قبول کرنے اور ان کی شریعت کے مطابق عمل کرنے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے اوراگربالفرض وہ اپنے نبی علیہ السلام کی مخالفت کرتا ہے تو ان کی مخالفت کرنے کی وجہ سے اسے کرامت حاصل نہیں ہوسکتی۔
    اگر ولی اس کرامت کو اس بات کے لئے دلیل بنائے کہ وہ اسے اپنے نبی علیہ السلام کی مخالفت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے توہم اسے کرامت نہیں کہیں گے بلکہ اسے تمویہات(يعنی جھوٹی اور خلافِ واقعہ باتوں)اور شیطانی احوال میں شامل کریں گے۔
لہذا اتباع کرنے والے کواپنے نبی علیہ السلام کی اتباع کے سبب ہی کرامت حاصل ہوسکتی ہے اس لئے کہ جو کرامت کسی ولی کو حاصل ہوتی ہے وہ اس چیزکے صحیح ہونے پر دلیل ہے جس پر وہ قائم ہے اور اس کے لئے اس کرامت کا حصول ممکن بنانے والی اس رسول علیہ السلام کی شریعت ہی ہے۔لہذا اس کی کرامت اس کے نبی علیہ السلام کے دعوۂ نبوت میں سچا ہونے پر دلیل ہے۔ 
معجزہ کی تعریف
    ہمارے نزدیک معجزہ سے مراد ہر وہ خارِق عادت (يعنی خلاف عادت) اَمرہے جو نبوت کے دعویدار کی سچائی پر دلالت کرنے والا ہو۔
اعتراض :”معجزہ ایسا خارق عادت اَمر ہوتا ہے جو دعوہ ـ   نبوت کے ساتھ ملاہو ا ہوچونکہ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی کرامات دعوہ ـ  نبوت کے ساتھ ملی ہوئی نہیں ہوتیں پس ان کی کرامات معجزہ میں داخل بھی نہیں؟”
جواب: ہم کہتے ہیں:”معجزہ کی تعریف پرمعترضین کایہ اعتراض واردنہیں ہوسکتا کیونکہ تعریف میں ان کے اس قول کہ”وہ دعوہ ـ  نبوت کے ساتھ ملا ہوا ہو۔”کا معنی یہ ہے کہ وہ صرف دعوہ ـ  نبوت کے زمانے میں سچائی پر دلالت کرنے کے لئے واقع ہو،ہرمعجزہ کے لئے یہ شرط نہیں کہ معجزہ دکھانے والا معجزہ کے وقوع کے وقت دعوہ ـ  نبوت کا ذکر کرے ،اس لئے کہ حضورنبئ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ظاہرہونے والے بہت سے ایسے خارقِ عادت امورکے معجزات ہونے پراجماع ہے جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات تھے مگرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے وقوع کے وقت ان کے ساتھ دعوہ ـ   نبوت ذکر نہیں فرمایابلکہ دعویٰ کے مطابق محض معجزات کے حاصل ہونے کوکافی جانا۔”اور معجزہ کے دعوہ نبوت کے ساتھ ملے ہوئے ہونے کایہی مفہوم ہے۔
    یوں ہی اور بھی کثیرمعجزات ہیں جوآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری وصال کے بعد ظاہرہوئے اورکئی ایسے ہیں جو علمِ غیب سے تعلق رکھتے ہیں جن کے متعلق آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خبردی کہ وہ ظاہرہوں گے جن میں سے بعض آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے جس طرح حضرت سيدنا عیسیٰ روح اللہ علی نبيناوعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا نزول فرمانا وغیرہ، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ ظاہری فرمانے کے بعد ان تمام امورکے وُقوع نے انہیں معجزات سے نہیں نکالاکيونکہ یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں اور اس لئے بھی کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت قیامت تک کے لئے ہے ۔
    اوراس اُمت میں اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی کرامات اسی باب سے ہیں یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر دلالت کرنے والی ہیں اورجوکرامات آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ ـ  دعوت میں واقع ہوئیں وہ بھی حقیقت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہی کامعجزہ ہیں۔ 
error: Content is protected !!