Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حصور گاؤں کی بربادی

”حصور”یمن کا ایک گاؤں تھا اس گاؤں والوں کی ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کو بھیجا جن کا نام موسیٰ بن میشا تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام کے پرپوتے تھے۔ گاؤں والوں نے آپ کو جھٹلایا اور پھر آپ کو قتل کردیا اس ناجائز حرکت پر خدا کا قہر و غضب اور اس کا عذاب گاؤں والوں پر اُتر پڑا۔ گاؤں والے طرح طرح کی بلاؤں میں گرفتار ہو گئے یہاں تک کہ ”بخت نصر”کافر و ظالم بادشاہ اس گاؤں پر مسلط ہو گیا۔ اور اس نے نہایت ہی بے دردی کے ساتھ پورے گاؤں کے تمام مردوں کو قتل کردیا اور سب عورتوں کو گرفتار کر کے لونڈی بنالیا اور شہر کو تاخت و تاراج کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ جب شہر میں قتل عام شروع ہوا تو گاؤں والے بھاگنے لگے اس وقت فرشتوں نے بطور مذاق کے کہا کہ اے گاؤں والو! مت بھاگو اور اپنے گھروں میں اپنے مال و دولت کو لے کر آرام و حسین زندگی بسر کرو۔ کہاں بھاگ رہے ہو؟ ٹھہرو! یہ انبیاء علیہم السلام کے خون ناحق کا بدلہ ہے جو تمہیں مل رہا ہے، آسمان سے ملائکہ کی یہ آواز پورے گاؤں میں آتی رہی اور ”بخت نصر”کے لشکروں کی تلواریں ان کے سر اُڑاتی رہیں۔ جب گاؤں والوں نے یہ منظر دیکھا تو اپنے گناہوں اور جرموں کا اقرار کرنے لگے مگر ان کی آہ و زاری اور گریہ و بے قراری نے ان کو کوئی نفع نہیں دیا۔ گاؤں میں ہر طرف خون کی ندیاں بہہ گئیں اور سارا گاؤں تہس نہس ہو گیا قرآن مجید نے ان لوگوں کی ہلاکت و بربادی کی داستان کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
وَکَمْ قَصَمْنَا مِنۡ قَرْیَۃٍ کَانَتْ ظَالِمَۃً وَّ اَنۡشَاۡنَا بَعْدَہَا قَوْمًا اٰخَرِیۡنَ ﴿11﴾فَلَمَّاۤ اَحَسُّوۡا بَاۡسَنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنْہَا یَرْکُضُوۡنَ ﴿ؕ12﴾لَاتَرْکُضُوۡا وَارْجِعُوۡۤا اِلٰی مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیۡہِ وَ مَسٰکِنِکُمْ لَعَلَّکُمْ تُسْـَٔلُوۡنَ ﴿13﴾قَالُوۡایٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّاکُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿14﴾فَمَا زَالَتۡ تِّلْکَ دَعْوٰىہُمْ حَتّٰی جَعَلْنٰہُمْ حَصِیۡدًا خَامِدِیۡنَ ﴿15﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور کتنی ہی بستیاں ہم نے تباہ کردیں کہ وہ ستمگار تھیں اور ان کے بعد اور قوم پیدا کی تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا جبھی وہ اس سے بھاگنے لگے نہ بھاگو اور لوٹ کے جاؤ اُن آسائشوں کی طرف جو تم کو دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف شاید تم سے پوچھنا ہو بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم ظالم تھے تو وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کردیا کاٹے ہوئے بجھے ہوئے۔(پ17،الانبیاء:11۔15)
اور بعض مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں گاؤں سے مراد گزشتہ ہلاک شدہ امتوں کے گاؤں ہیں۔ یعنی حضرت نوح و حضرت لوط و حضرت صالح و حضرت شعیب علیہم السلام کی قوموں کی بستیاں جو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک و برباد کردی گئیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
          (تفسیر صاوی،ج۴، ص ۱۲۹۲،پ۱۷، الانبیاء:۱۱)
درسِ ہدایت:۔حضرات انبیاء علیہم السلام کی تکذیب و توہین اور ان کی ایذاء رسانی و قتل یہ سب بڑے بڑے وہ جرم عظیم ہیں کہ خداوند قدوس کا عذاب ان لوگوں پر ضرور ہی آتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید گواہ ہے کہ بہت سی بستیاں انہیں جرموں میں تباہ و برباد کردی گئیں۔
error: Content is protected !!