Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

چوتھی حدیث پاک کی دوسری سند

   امام ابویعلٰی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ(307-210ھ)اپنی ”مُسْنَد ”میں فرماتے ہیں کہ ابو خیثمہ ، عمر بن یونس سے ، وہ عکرمہ بن عمار سے، وہ یزید رقاشی سے ،اور وہ حضرت سيدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روايت کرتے ہيں کہ رسولِ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ ـ  مبارکہ میں ایک شخص ہمارے ساتھ غزوات میں شریک ہوتا تھا جب وہ جہادسے واپس لوٹتاتواپنی سواری کو ایک جانب باندھ کر مسجد کا رخ کرتا اور نماز پڑھنے میں مشغول ہوجاتانما ز کو خوب طول دیتا(یعنی لمبی کرکے پڑھتا) یہاں تک کہ بعض صحابہ کرام علیہم الرضوان اسے خودسے افضل گمان کرنے لگے ۔
    ایک دن نبی ِمُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ساتھ تشریف فرماتھے کہ وہ وہاں آیا توکسی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ ميں عرض کی :”یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! یہ وہ شخص ہے جس کی طرف یہاں آنے کے لئے یا تو اللہ عزوجل نے پیغام بھیجا ہے یا خود ہی آگیا ہے۔” جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے آتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا:” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ـ  قدرت میں میری جان ہے ! اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان شيطان کی طرف سے سیاہی (يعنی بدبختی) ہے ۔”
    جب وہ مجلس کے پاس رُکاتورسولِ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا:”جب تُو مجلس کے پاس ٹھہراتھا توکیا توُ نے اپنے دل میں یہ نہ کہا تھا کہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی مجھ سے بہتر نہیں ؟” اس نے جواب ديا :” ہاں! ایسے ہی کہا تھا ۔” یہ کہہ کر وہ چل دیا پھر وہ مسجد کے ایک کونے میں آیا ۔اوراپنے پاؤں کے ساتھ ایک خط کھینچا پھر اپنے ٹخنوں کو سیدھا کیا اورکھڑے ہوکر نماز پڑھنے لگا ۔
    اللہ کے مَحبوب،دَانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:” تم میں سے کون ہے جو اس کی طر ف جائے اور اسے قتل کردے ؟ ” حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے قتل کرنے کے لئے گئےجب واپس آئے تو سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اِستِفسارفر مایا:” کیا تم نے اس شخص کو قتل کردیا ۔” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:” میں نے اسے نمازکی حالت میں پایا تو قتل کرنے سے خوف محسوس کیا ۔”
    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمارصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ ارشادفرمایا:” تم میں سے کون ہے جو جاکر اِسے قتل کر دے ؟” حضرت سیدنا عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! مَیں ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی تلواراٹھائی لیکن اسے نما ز کی حالت میں کھڑا دیکھ کر واپس لوٹ آئے ۔نبئ کریم ،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآ لہ وسلم نے حضرت سیدنافاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے استفسارفرمایا:” کیا تم نے اس شخص کو قتل کردیا ؟ ”تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:” یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !میں نے اسے نماز کی حالت میں پایا تو اسے قتل کرنے سے خوف محسوس کیا ۔”
    حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار پھر ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کون ہے جو اس کی طر ف جائے اور اسے قتل کردے ؟ ”حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْھَہُ الْکَرِیْم نے عرض کی: ”یارسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم !اُسے میں قتل کر وں گا ۔” تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:” اگر تم نے اسے پالیا تو تم ایسا ضرور کروگے۔” حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تعالیٰ وَجْھَہُ الْکَرِیْم گئے لیکن اسے نہ پاکر واپس لوٹ آئے ۔” سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب و سینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دريافت فرمايا :”کیا تم نے اس شخص کو قتل کردیا ؟ ” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی :” مجھے نہیں معلوم کہ وہ زمین میں کہاں چلا گیا ۔” تو نبئ کریم،رء وف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” یہ پہلا سینگ ہے جو میری اُمت میں ظاہرہوا اگر تم اسے قتل کردیتے تو میری اُمت میں کبھی دو آدمی بھی آپس ميں اختلاف نہ کرتے، بے شک بنی اسرائیل میں اکہتر71) ) فرقے تھے جبکہ یہ اُمت بہتر(72) فرقوں میں بٹے گی، ایک فرقہ کے علاوہ باقی سب جہنم میں جائیں گے۔”
     راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی:” یا رسولَ اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ! وہ فرقہ(يعنی نجات پانے والا) کون ساہوگا؟”آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا :”وہ جماعت ہے ۔”
 (مسندابی یعلٰی الموصلی،مسندانس بن مالک،الحدیث:۴۱۱۳،ج۳،ص۴۰۴، ”احدی” بدلہ ” واحد ”)]
error: Content is protected !!