Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نیت میں فرق آجاتا

    حضرت سیِّدُ نا امام محمد باقر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک قبائے نفیس بنوائی۔ طہارت خانے میں تشریف لے گئے، وہاں خیال آیا کہ اسے راہِ خدا میں دیجئے۔ فوراً خادم کو آواز دی’ قریبِ دیوار حاضر ہُوا۔ حضور نے قبائے معلّٰی اُتار کردی کہ فلاں محتاج کو دے آؤ۔ جب باہر رونق افروزہُوئے توخادم نے عرض کی:”اس دَرَجہ تَعْجِیْل(یعنی جلدی)کی وجہ کیا تھی؟” فرمایا :”کیا معلوم تھا باہر آتے آتے نیت میں فرق آجاتا۔”
(فتاویٰ رضویہ،ج۱۰ ص۸۴)
     سبحان اﷲ!یہ اُن کی احتیاط ہے جواہلِ تقوٰی کی آغوش میں پلے اورطہارت وپاکیزگی کے دریا میں نہائے دُھلے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم
کیا زکوٰۃ الگ کرلینے سے بری الذمہ ہوجائے گا؟
     زکوٰۃ محض جدا کرنے سے ذمہ داری پوری نہ ہوگی بلکہ فقراء تک پہنچانے سے ہوگی ۔
 (الدرالمختار ، کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۲۲،۲۲۴)
رمضان المبارک میں زکوٰۃدینا
     جب سال پورا ہوجائے تو فوراً ادا کرنا واجب ہے اور تاخیر گناہ ،خواہ کوئی بھی مہینہ ہو اور اگر سال تمام ہونے سے پہلے پیشگی ادا کرنا چاہے تو رمضان المبارک میں ادا کرنا بہتر ہے جس میں نفل کا فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستّر فرضوں کے
ہے کہ آج ادائیگی کا جو پختہ ارادہ ہے کل نہ رہے کیونکہ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔
برابر ہوتا ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۱۰، ص۱۸۳)
error: Content is protected !!