کسی کے اعمال دوسرے کے کام آنے نہ آنے کا قاعدہ

    الف:جن آیتوں میں فرمایا گیا ہے کہ انسان کوصرف اپنے عمل ہی کام آویں گے یا فرمایا گیا ہے کہ نہیں ہے انسان کے لئے مگر وہ جو خود کرے ، اس سے مراد بدنی فرض عبادتیں ہیں یا یہ مطلب ہے کہ قابل اعتماد اپنے اعمال ہیں کسی کے بھیجنے کا یقین نہیں ۔
    ب:جن آیتو ں میں فرمایا گیا ہے کہ دوسروں کی نیکی اپنے کام آتی ہے۔
 اس سے مراد اعمال کا ثواب ہے یا مصیبت دور ہونا یا درجے بلند ہونا ۔
”الف”کی مثال یہ ہے۔
(1) وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾
نہیں ہے انسا ن کیلئے مگر وہ جو کوشش کرے ۔(پ27،النجم:39)
(2)  لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ
اس نفس کیلئے مفید ہیں وہ عمل جو خود کرے اور اس کو مضر ہیں وہ گناہ جو خود کرے ۔(پ3،البقرۃ:286)
    ان دنوں آیتوں کا منشایہ ہے کہ کوئی کسی کی طر ف سے فرض نماز نہیں پڑھ سکتا، فرضی روزہ نہیں رکھ سکتا ، ان آیتوں میں اسی لئے سعی او رکسب کا ذکر ہے یا منشاء یہ ہے کہ اپنی ملکیت انہی عملوں پر ہے جو خود کرلئے جاویں کیا خبر کوئی دوسرا ثواب بھیجے یا نہ بھیجے ۔ اس کے بھروساپر خود غافل رہنا بیوقوفی ہے ۔”ب” کی مثال یہ ہے :
(1) وَکَانَ تَحْتَہٗ کَنۡزٌ لَّہُمَا وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا ۚ فَاَرَادَ رَبُّکَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّہُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا کَنۡزَہُمَا
حضرت خضرنے فرمایاکہ اس دیوار کے نیچے دو یتیموں کا خزانہ ہے او ران کا باپ نیک تھاپس تمہارے رب نے چاہاکہ یہ بالغ ہوں تو اپنا خزانہ نکالیں۔(پ16،الکھف:82)
(2) وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰہُمۡ مِّنْ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ
اور جو ایمان لا ئے اوران کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہم نے ان کی اولاد ان سے ملادی اور ان کے عمل میں انہیں کچھ کمی نہ دی ۔(پ27،الطور:21)
    پہلی آیت سے معلوم ہو اکہ جس گرتی ہوئی دیوار کی مرمت حضرت خضر و موسیٰ علیہما السلام نے کی ۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اس کے نیچے خزانہ تھا جو ایک نیک آدمی کاتھا ۔ اس کے دو چھوٹے بچے تھے ، رب تعالیٰ نے چاہا کہ دیوار کھڑی رہے اور خزانہ محفوظ رہے تا کہ بچے جوان ہو کر نکال لیں ۔ اس لئے دو پیغمبر وں کو اس کی مرمت کے لئے بھیجا ، ان نابالغ یتیموں پر یہ مہربانی ان کے باپ کی نیکی کی وجہ سے ہوئی۔
    دوسری آیت سے معلوم ہو اکہ نیکوں کی مومن اولاد جنت میں اپنے ماں باپ کے ساتھ رہے گی اگرچہ اولا د کے اعمال باپ سے کم درجہ کے ہوں ۔ ایسے ہی نابالغ بچے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرزندان حضرت طیب وطاہر وقاسم وابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہم جنت میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ہوں گے حالانکہ کوئی نیکی نہ کی۔ معلوم ہوا کہ کسی کی نیکی دوسرے کے کام آجاتی ہے۔ اسی وجہ سے ایصال ثواب ، فاتحہ وغیرہ کرتے ہیں بلکہ حج بدل بھی دوسرے کی طر ف سے کرسکتے ہیں۔اور زکوۃ میں دوسرے کے نائب بن سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *