Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۳۶) لڑکیوں کی پرورش

حدیث:۱
    عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ دَخَلَتْ اِمْرَأَۃٌ مَعَھَا اِبْنَتَانِ لَھَا تَسْاَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِیْ شَیْئًا غَیْرَ تَمْرَۃٍ فَاَعْطَیْتُھَا اِیَّاھَا فَقَسَمَتْہَا بَیْنَ اِبْنَتَیْھَا وَلَمْ تَاْکُلْ مِنْھَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْنَا فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ ابْتُلِیَ مِنْ ھٰذِہِ الْبَنَاتِ بِشَیْءٍ کُنَّ لَہٗ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ(1)
                      (بخاری ،ج۱،ص۱۹۰)
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے انہوں نے کہاکہ ایک عورت اپنی دوبیٹیوں کے ساتھ بھیک مانگتی ہوئی ہمارے گھر میں داخل ہوئی اورمیرے پاس ایک کھجورکے سوااس نے کچھ نہیں پایامیں نے اس کو وہی ایک کھجوردیدی تواس نے اس کھجورکواپنی دونوں بیٹیوں کے درمیان تقسیم کردیااورخوداس نے اس میں سے کچھ نہیں کھایاپھراٹھی اور چلی گئی جب نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم ہمارے مکان میں آئے تو میں نے حضورکواس واقعہ کی خبردی توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ جوشخص ان بیٹیوں کے ساتھ مبتلاکیاگیایہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔
حدیث:۲
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ اُنْثٰی فَلَمْ یَئِدْھَا وَلَمْ یُھِنْھَا وَلَمْ یُؤْثِرْ وَلَدَہٗ عَلَیْھَا یَعْنِی الذُّکُوْرَ اَدْخَلَہُ اللہُ الْجَنَّۃَ۔رواہ ابوداود(2)  (مشکوٰۃ،ج،ص۴۲۳)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے بیٹی ہوئی اور اس نے نہ اس کو زندہ دفن کیانہ اس کی توہین کی نہ اپنے بیٹوں کو اس پر ترجیح دی تو اس کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل فرمائے گا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۳

    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ ثَلٰثَ بَنَاتٍ اَوْمِثْلَھُنَّ مِنَ الْاَخَوَاتِ فَاَدَّبَھُنَّ وَرَحِمَھُنَّ حَتّٰی یُغْنِیَھُنَّ اللہُ اَوْجَبَ اللہُ لَہُ الْجَنَّۃَ فَقَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ اَوِاثْنَتَیْنِ قَالَ اَوِاثْنَتَیْنِ حَتّٰی لَوْ قَالُوْا اَوْ وَاحِدَۃً فَقَالَ اَوْ وَاحِدَۃً (1)
(مشکوٰہ،ج۲،ص۴۲۳)
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تین بیٹیوں یاان کے مثل بہنوں کی پرورش کاانتظام کیا پھران کوادب سکھایااوران پرمہربان رہایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں (شادی ہوجانے کے بعد)بے نیازکر دے تواس شخص کے لیے اللہ تعالیٰ جنت واجب کردیتا ہے یہ سن کر ایک مرد نے کہا کہ یادو لڑکیاں؟ تو فرمایا کہ یادو لڑکیاں یہاں تک کہ اگرلوگ کہتے یا ایک لڑکی؟ توآپ فرمادیتے ایک ہی لڑکی۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

تشریحات وفوائد

 (۱)حدیث نمبر۱ کا حاصل یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے بیٹیاں دی ہیں اور و ہ ان کی نہایت ہی محبت و شفقت کے ساتھ پرورش کرتا ہے تو قیامت کے دن یہی بیٹیا ں  اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی کہ وہ شخص جہنم میں جانا تو بڑی بات ہے جہنم کو دیکھ بھی نہ سکے گا۔ بیٹیوں کے ملنے کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مبتلا کیا جانا فرمایا اس میں اشارہ ہے کہ جس کے یہاں بیٹی پیدا ہوئی گویاوہ ایک امتحان میں ڈال دیا گیا لہٰذا اس کے لیے صبروتحمل ضروری ہے۔
(۲) حدیث نمبر ۲ میں بیٹیوں کو ماں باپ کے لیے جنت میں جانے کا ذریعہ و وسیلہ بتایاگیاہے مگر شرط یہ ہے کہ بیٹیوں کو بیٹوں سے کم اور حقیر نہ سمجھے اور ان کی تعلیم وتربیت میں کوئی کوتاہی نہ کرے۔مگر واضح رہے کہ یہ شرط بڑی کڑی اور کٹھن ہے لیکن اس کا بدلہ بھی جنت ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی انعام ہو ہی نہیں سکتا۔
(۳) حدیث نمبر ۳کاماحصل یہ ہے کہ بیٹیوں اوربہنوں کی پرورش کایکساں اجرو ثواب ہے اور تین بیٹیوں اور بہنوں کی پرورش کا جواجرو ثواب ہے وہی دو یا ایک بیٹی اوربہن کی پرورش کا بھی اجرو ثواب ہے۔
error: Content is protected !!