Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

ماہ ذوالحجہ کےپہلے دس دن

حدیث:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ذوالحجہ کے پہلے) دس دنوں میں کئے گئے اعمال صالحہ جس قدر اللہ عزوجل کو محبوب ہیں کسی اور دن میں کئے ہوئے اعمال اس قدر محبوب نہیں ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جہاد فی سبیل اللہ بھی اتنا محبوب نہیں؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ بھی اس قدر محبوب نہیں ہے۔ ہاں البتہ اس آدمی کا جہاد اس سے زیادہ پسندیدہ ہے جو اپنی جان اور اپنا مال لے کر جہاد کے لیے نکلا۔ پھر ان میں سے کوئی چیز واپس لے کر نہ لوٹا۔ ( مال بھی راہ حق میں صرف کردیا اور جان بھی یعنی جام شہادت نوش کرلیا)۔

حدیث:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: دنیا کے تمام دنوں سے افضل ذوالحجہ کے پہلے دس دن ہیں۔ عرض کیا گیا: اللہ کے راستہ میں اتنے دن جہاد کرنا بھی ان کے برابر نہیں ہے؟ فرمایا: نہیں: راہ خدا میں اتنے دن جہاد کرنا بھی ان کے برابر نہیں ہوسکتا۔ ہاں مگر وہ آدمی جس نے جہاد فی سبیل اللہ میں اپنا چہرہ خاک آلود کرلیا۔ (الحدیث)

حدیث:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی، وہ نبی کریم علیہ الصلوٰة والتسلیم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عشرہ ذوالحجہ میں کی جانے والی عبادت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی محبوب ہے کہ اور دنوں میں کی جانے والی عبادت اتنی پسند نہیں۔ ان دنوں میں کسی ایک دن کا روزہ رکھنا پورے سال کے روزوں کے برابر ہے۔

حدیث:

روایت ہے حضرت سعید بن جبیر سے، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں عشرہ ذوالحجہ سے بڑھ کر کوئی دن افضل نہیں اور کسی اور دن میں کیا جانے والا عمل صالح ان دنوں میں کئے جانے والے عمل سے زیادہ محبوب نہیں۔ ان دنوں میں تمام تہلیل و تکبیر اور ذکر اللہ کی کثرت کیا کرو۔ ان میں ایک یوم کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے۔ اور ان میں نیک عمل کا ثواب سات سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔
error: Content is protected !!