Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

بُرے خاتمے کا خوف

    سرکارِ والا تَبار، بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابی حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کی قسم اٹھا کر فرماتے تھے :”جو موت کے وقت ایمان کے چھن جانے سے بے خوف رہے گا اس کی موت کے وقت اس کا ایمان چھین لیاجائے گا۔” یعنی اس کا ایمان اللہ عزوجل کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنے کی وجہ سے چھینا جائے گا۔ 
    حضرت سیدنا عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”جب حضرت سیدنا سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر نزع کا عالم طاری ہوا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے، ایک شخص نے دریافت کیا: ”اے ابو عبداللہ! کیا  گناہ کی کثرت نظر آ رہی ہے؟” تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سر اٹھایا اور زمین سے کچھ مِٹی اٹھا کر ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کی قسم! میرے گناہ میرے نزدیک اس مٹھی بھر مِٹی سے بھی زیادہ حقیر ہیں، میں تو موت سے پہلے ایمان چھن جانے کے خوف سے رورہاہوں ۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا عبداللہ بن احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہم فرماتے ہیں:”جب میرے والد گرامی پر نزع کا عالم طاری ہوا تو میں ان کے قریب بیٹھ گیا، میں نے ان کے جبڑے باندھنے کے لئے ہاتھ میں کپڑے کاایک ٹکڑا پکڑ رکھا تھا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کبھی بے چین ہوجاتے اور کبھی افاقہ محسو س کرتے اور کہتے :”خبردار! مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔” میں نے عرض کی: ”ابا جان! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس عالم میں ایسے انداز میں کس سے مخاطب ہیں؟” تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواب دیا: ”اے میرے بیٹے! کیاتم نہیں جانتے؟” میں نے عرض کی :”نہیں!” تو انہوں نے ارشاد فرمایا:” ابلیس میرے سامنے کھڑا ہے اور مجھ سے کہہ رہاہے: ”اے احمد! مجھے ایک بار تو آزما لو۔” لیکن میں اس سے کہہ رہا ہوں :”جب تک میں مر نہ جاؤں مجھ سے دور رہو۔” 

    حضرت سیدنا سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے :” مُرید گناہوں میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے جبکہ عارف کفر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے۔” 
    منقول ہے :”کسی نبی علیہ الصلوٰۃ السلام نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنی بھوک اور سردی کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی بھیجی :”اے میرے بندے! کیا تُو اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تیرے دل کو اپنی ناشکری سے محفوظ کر دیا ہے، پھر بھی تُو مجھ سے دنیا کا سوال کرتا ہے۔” تو وہ اپنے سر پر خاک ڈال کر عرض کرنے لگے: ”کیوں نہیں ،یارب عزوجل! بے شک میں راضی ہوں، مجھے ناشکری سے بچائے رکھنا۔” جب راسخ قدمی اور قوتِ ایمانی کے باوجود عارفین کے برے خاتمے سے خوف کا یہ عالم ہے تو ہم جیسے کمزور و ناتواں بندے کیوں نہ ڈریں۔ علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:”موت سے پہلے برے خاتمہ کی چند علامات ظاہر ہوتی ہیں، مثلا بدعت میں مبتلا ہونا اور عمل میں نفاق۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(84)۔۔۔۔۔۔ان کی پہلی بات کی تائید دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان بھی کرتاہے کہ ”بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کُتّے ہوں گے۔”

(کنزالعمال،کتاب الایمان والاسلام، باب البدع و الرفض من الاکمال، الحدیث: ۱۱۲۱،ج۱،ص۱۲۳،بدون ”فی النار ”)
(85)۔۔۔۔۔۔دوسری بات کی طرف نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں اشارہ فرمایا ہے :”منافق کی تین علامتیں ہیں: 
(۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور (۳)جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے، اگرچہ وہ نماز پڑھتاہو، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔”
(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب خصال المنافق ، الحدیث:۲۱۱/۲۱۳،ص۶۹۰)
    اسی وجہ سے ہمارے اسلاف اس معاملہ میں بہت زیادہ ڈرتے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا: ”اگر مجھے پتہ چل جائے کہ میں نفاق سے بری ہوں تو یہ مجھے ہر اس چیز سے زیادہ پسند ہو گا جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا:”نفاق والے خشوع سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگا کرو۔”آپ سے عرض کی گئی :”نفاق والا خشوع کیا ہے؟” تو آپ نے ارشاد فرمایا:”جسم تو خاشع نظر آئے مگر دل فاسق و فاجر ہو۔” 
(86)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا اَنَس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:”تم لوگ کچھ ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے زیادہ باریک ہیں جبکہ ہم صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے زمانے میں انہیں ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال شمار کرتے تھے۔”
 (صحیح البخاری ،کتاب الرقاق،باب ما یتقی من محقرات الذنوب،الحدیث :۶۴۹۲،ص۵۴۵)
(87)۔۔۔۔۔۔اپنے زمانہ کے شافعی مذہب کے امامِ حضرت سیدنا شیخ نصر المقدسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت سیدنا ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں:”مجھے میرے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چار باتوں کی وصیت فرمائی،جومجھے دنیا اور اس کی ہرچیز سے زیادہ پیاری ہیں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا:”اے ابو ذر!کشتی کی مرمت کر لو کیونکہ دنیا کا سمندر بہت گہرا ہے،بوجھ کو ہلکا رکھو کیونکہ سفر بہت طویل ہے ،توشہ ساتھ لے لو کیونکہ گھاٹی بہت لمبی ہے اور عمل میں اخلاص پیدا کرلو کیونکہ تمام معاملات کی جانچ پڑتال کرنے والا صاحبِ بصیرت ہے۔”
    حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خشیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”خشیت یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل سے اتنا ڈرو کہ اس کا ڈر تمہارے اور نافرمانیوں کے درمیان حائل ہو جائے۔” 
    اللہ عزوجل سے غافل ہونے سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کی معصیت میں اِنتہا کو پہنچ جائے اور اس کے باوجود بخشش کی تمنا رکھے۔ 
    ایک شخص کسی تفریح گاہ میں داخل ہوا ،اس کے دل میں معصیت کا خیال آیاتو اس نے سوچا کہ یہاں مجھے کون دیکھے گا؟ اچانک اس نے ایک بے چین کر دینے والی آواز سنی :


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ؕ وَ ہُوَ اللَّطِیۡفُ الْخَبِیۡرُ ﴿٪14﴾
ترجمۂ کنزالایمان:کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہی ہے ہر باریکی جانتا خبردار۔(پ29، الملک: 14)
    حضرت سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ عزوجل کے اس فرمانِ عالیشان:
 وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللہِ الْغَرُوۡرُ ﴿5﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور ہرگز تمہیں اللہ کے حکم پر فریب نہ دے وہ بڑا فریبی۔(پ 22، فاطر: 5)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:”اس سے مراد گناہوں پر ہمیشگی اختیار کرنے کے باوجود مغفرت کی تمنا رکھنا ہے۔”
    حضرت سیدنا بشر حافی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سیدنا فضیل بن عیاض رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی :”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے مجھے کوئی نصیحت فرمایئے؟” تو انہوں نے ارشاد فرمایا:”جو اللہ عزوجل کا خوف رکھتا ہوتو یہی خوف ہر خیر کی طرف اس کی رہنمائی کر دیتا ہے۔”
    ایک شخص نے حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضری کی اجازت چاہی تو اس کے پاس ایک بزرگ تشریف لائے، اس نے ان سے پوچھا: ”کیا آپ ہی طاؤس ہیں؟” تو اس بزرگ نے ارشاد فرمایا: ”نہیں! میں ان کا بیٹا ہوں۔” تو اس شخص نے کہا: ”اگر تم طاؤس کے بیٹے ہو تو یقینا تمہارے والد ِگرامی سٹھیاگئے ہوں گے(یعنی بُڑھاپے کی وجہ سے اُن کی عقل جاتی رہی ہو گی ) ۔” اس بزرگ نے جواب دیا :”عالم کبھی نہیں سٹھیاتا۔” پھر انہوں نے مزید ارشاد فرمایا:”جب تم ان کے پاس جاؤ تو گفتگو مختصر کرنا۔” اور وہ شخص جب حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے نے پھر اس سے کہا: ”اگر تم کوئی سوال کرنا چاہو تو مختصر سوال کرنا۔” تواس نے کہا: ”اگر وہ مجھ سے مختصر کلام کریں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔” اس سے حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اپنی اس مجلس میں تورات، انجیل اور قرآن کریم سکھاؤں گا۔” تواس نے عرض کی: ”اگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے یہ تینوں کتابیں سکھا ئیں گے تو میں بھی آپ سے کوئی سوال نہ کروں گا۔” تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل سے اتنا ڈرو کہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ خوف میں ڈالنے والی کوئی چیز نہ ہو اور اس سے اپنے خوف سے زیادہ امید رکھو اور جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو لوگوں کے لئے بھی وہی پسند کرو۔” 


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    حضرت سیدنا طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بیٹے کی اس بات کہ”عالم کبھی نہیں سٹھیاتا۔” کی تائید حضرت سیدنا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ عزوجل کے فرمان:
 وَ مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرَدُّ اِلٰۤی اَرْذَلِ الْعُمُرِ
ترجمۂ کنزالایمان:اورتم میں کوئی سب سے ناقص عمر کی طرف پھیرا جاتاہے۔(پ 14، النحل: 70)
کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ”جس نے قرآن کریم کا حق ادا کرتے ہوئے اسے پڑھا وہ اس حالت کو نہیں پہنچے گا۔” 
    ”عالم کے نہ سٹھیانے ”سے مراد یہ ہے کہ بڑی عمر میں عالم کی عقل میں عام لوگوں کی طرح فساد پیدا نہیں ہوتا یعنی جس طرح عام لوگ بڑی عمر میں بچو ں کی سی بلکہ ان سے بھی بدتر حرکتیں کرنے لگتے ہیں عالم اس طرح نہیں کریگا یہی وہ برائی ہے جس سے اللہ عزوجل کی طر ف سے علماء کی حفاظت کی جاتی ہے۔ 
    حضرت سیدنا مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ﴿ۚ46﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے اس کے لئے دو جنتیں ہیں۔(پ 27، الرحمن: 46)
کی تفسیرمیں فرمایا:”اس سے مراد وہ شخص ہے جو گناہ کے بارے میں سوچے پھر اسے اللہ عزوجل کا خیال آ جائے اور وہ اللہ عزوجل کے خوف اور اس سے حیا کرتے ہوئے اس گناہ کو چھوڑ دے۔”
error: Content is protected !!