بُخل کی تعریف اور اس کی مثالیں

    گذشتہ احادیثِ مبارکہ ميں بُخْل کی مذمت اور اس کی آفات و نقصانات کی طرف اشارہ ہو چکا ہے، اس کی قدرے تفصيل يہ ہے کہ شرع ميں بُخْل زکوٰۃ ادا نہ کرنے کو کہتے ہيں اور پھر ہر واجب کو بھی زکوٰۃ کے ساتھ ملا ديا گيا يعنی  واجب کی عدم ادائيگی بُخْل ہے، لہٰذا جو زکوٰۃ روک لے وہ بخيل ہے اور اسے وہی سزاملے گی جواحادیثِ مبارکہ ميں گزر چکی ہے۔
Advertisement

بخیل کی مختلف تعریفات:

    سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہيں :”ايک قوم نے بُخْل کی تعريف واجب کی عدم ادائیگی سے کی ہے۔لہٰذا ن کے نزديک جو شخص خود پر واجب حقوق ادا کر دے وہ بخيل نہ کہلائے گا مگر يہ تعریف کافی نہيں کيونکہ جو شخص گوشت يا روٹی قصاب يا نانبائی کو رتی بھر کمی کی بناء پر لوٹا دے اسے بالاتفاق بخيل شمار کيا جاتا ہے، اسی طرح قاضی نے کسی شخص کے مال ميں سے اس کے اہل و عيال کے لئے نفقہ مقرر کيا پھر ا گر اہلِ خانہ اس کے مال ميں سے ايک لقمہ يا کھجور کھا ليں اور يہ شخص ان پر اس سلسلہ ميں تنگی کرے تو يہ بھی بخيل کہلائے گا اور کسی شخص کے پاس روٹی رکھی ہو پھر کوئی شخص اس سے ملنے آئے اوراسے گمان ہو کہ وہ بھی کھانے ميں شريک ہو جائے گاتو اس خوف سے وہ اس سے روٹی چھپا لے تووہ بھی بخيل کہلائے گا۔”
    ديگر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہيں :”بخيل وہ شخص ہے جس پر ہر قسم کا عطيہ دينا گراں گزرتا ہے مگر يہ بات قاصر ہے کيونکہ اگر بُخْل سے ہر عطيہ کا گراں گزرنا مراد لے ليا جائے تو اس پريہ اعتراض ہو گا کہ بہت سے بخيلوں پر رتی بھر يا اس سے زيادہ عطيہ دينا گراں نہيں گزرتا تو يہ بات بُخْل ميں رخنہ نہيں ڈالتی۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!