Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

(۵) وضو

  وضو بھی اعمالِ جنت میں سے ایک عمل اورجنت کی سڑکوں میں سے ایک شاہراہ ہے۔ وضو کے فضائل اور اجرو ثواب کے بارے میں مندرجہ ذیل چند حدیثیں بہت زیادہ ایمان افروز اور رغبت انگیز ہیں۔
حدیث:۱
     حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں ایسے کاموں کا راستہ نہ بتاؤں؟ جس سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کوبھی مٹا دے اور تمہارے درجات کو بھی بلند فرمادے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیاکہ کیوں نہیں ایسے عمل کی توبہت ضرورت ہے۔ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تکلیفوں کے باوجود ”کامل وُضو” کرنا اورمسجدوں کی طرف بکثرت قدم رکھنااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہ چیزیں جہاد کے حکم میں ہیں۔(1) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۸)
حدیث:۲
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جو بہترین طریقے سے وضو کرے تو اس کے بدن سے اس کے تمام گناہ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے کے گناہ بھی نکل جاتے ہیں۔(2)
                     (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۸)
حدیث:۳ 
    حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان اچھی طرح وضو کرے پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز اس طرح پڑھے کہ اپنے دل اور چہرے کے ساتھ ان دونوں رکعتوں پر توجہ رکھے تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔(1) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۹)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

حدیث:۴

     امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی بھی خوب کامل وضو کرے پھر ان کلمات کو پڑھ لے:
اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ تواس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں کہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔(2) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۹)
حدیث:۵ 
    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت قیامت کے دن اس حالت میں بلائی جائے گی کہ ان کی پیشانی روشن اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثرات سے چمکتے ہوں گے تو جو اپنی روشنی کو بڑھا سکتا ہو اس کو چاہے کہ وہ اپنی روشنی کو بڑھائے۔(3) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۳۹)

تشریحات و فوائد

 (۱)وضو بذات خو د بظاہر کوئی عبادت کا کام نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ پانی بہانا اور چند اعضاء کو دھولینا بظاہرکوئی عباد ت کا عمل نہیں لیکن چونکہ وضو نماز ادا کرنے کا وسیلہ ہے اور عبادت کا وسیلہ بھی عبادت ہوتا ہے اس لئے وضو بھی اس لحاظ سے عبادت بن گیااور ایسی شاندار عبادت بن گیا کہ جنت دلانے والا عمل اور بہشت کی سڑکوں میں سے ایک سڑک بلکہ شاہراہ بن گیا۔
(۲)اس عنوان کی حدیث نمبر ۱ میں تکلیفوں کے باوجود وضو کرنے کا یہ مطلب ہے کہ سردی وغیرہ کے مواقع پر تکلیف کے باوجود اعضاء کو پورا پورا کامل طریقے سے سنت کے مطابق دھوئے اس میں ہرگز ہرگز کوئی سستی یا کوتاہی نہ کرے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس حدیث میں کامل وضو کرنے اورکثرت سے مسجدوں میں آنے جانے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے ۔ان تینوں باتوں کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے” فَذَا لِکُمُ الرِّبَاطُ” فرمایا۔ رباط کے معنی اسلامی سرحد پر گھوڑا باندھ کر کفار سے جہاد کرنا اور دارالاسلام کو کفار کے حملوں سے بچاناہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان تینوں کاموں کو بجالانے کا ثواب جہاد کے مثل ہے۔
(۳)حدیث نمبر ۲ میں تمام گناہوں کے بدن سے نکل جانے کا یہ مطلب ہے کہ وضو کرنے سے گناہ صغیرہ (چھوٹے گناہ)کل کے کل معاف ہوجاتے ہیں۔گناہ کبیرہ (بڑے بڑے گناہ)اگر حقوق اللہ سے ان کا تعلق ہے مثلاً نماز و روزہ چھوڑ دیاتو بغیر سچی توبہ کے یہ گناہ معاف نہیں ہوسکتا اوراگر حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے گناہ کبیرہ ہوں جیسے کسی کا مال چرالیا ہے تو ا س کو معاف کرانے کے لئے توبہ کے ساتھ ساتھ بندوں سے معاف کرالینا بھی ضروری ہے۔
(۴)حدیث نمبر ۵ کا یہ مطلب ہے کہ جہاں جہاں وضو کا پانی پہنچتا ہے قیامت میں بدن کا وہ حصہ روشن اور چمکتا ہوگا تو جو شخص اس نورانی چمک کوبڑھانا چاہے اس کو چاہے کہ وہ بکثرت وضوکرے اوراعضائے وضوکوسنت کے مطابق اچھی طرح دھوئے۔

وضو کے دنیاوی فائدے

وضو سے آخرت کے فائدے کے علاوہ بہت سے دنیاوی فوائد بھی ہیں مثلاً :
(۱)باوضو رہنے والا مسلمان شیطان کے وسوسوں اورشیطانی حملوں سے محفوظ رہتا ہے ۔
(۲)وضو بہت سی بیماریوں کا علاج اور تندرستی کا محافظ ہے۔
(۳)وضو کرکے جس کام کے لئے گھر سے نکلیں ان شاء اللہ تعالیٰ وہ کام پورا ہوجائے گا۔ اِسی لئے اولیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ یا اکثر اوقات باوضو رہا کرتے تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب فضل اسباغ الوضوء…الخ،الحدیث:۲۵۱، ص۱۵۱
2۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب خروج الخطایا…الخ،الحدیث:۲۴۵، ص۱۴۹
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الطھارۃ،باب الذکرالمستحب…الخ،الحدیث:۲۳۴، ص۱۴۴
2۔۔۔۔۔۔مشکاۃ المصابیح،کتاب الطھارۃ،الفصل الاول،الحدیث:۹۸۹،ج۱،ص۷۳
3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الوضوء،باب فضل الوضوء…الخ،الحدیث:۱۳۶، ج۱،ص۷۱
error: Content is protected !!