Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نیا دُولھا انتقال کر گیا

نیا دُولھا انتقال کر گیا

ایک شخص جس کا گھر قبرستان کے قریب تھا ، اُس نے اپنے بیٹے کی شادی کے سلسلے میں رات ناچ رنگ کی محفِل قائم کی لوگ ناچ کُود اور دھما چَوکڑی میں مشغول تھے کہ قبرستان کاسنّاٹا چِیرتی ہوئی دو عَرَبی اشعار پر مشتمل ایک گرجدار آواز گُونج اُٹھی ، اُن اشعار کا ترجمہ کچھ یوں ہے : “ اے ناچ رنگ کی ناپائیدار لذّتوں میں منہمک ہونے والو!موت تمام کھیل کُود کو خَتْم کردیتی ہے۔ بہت سے ایسے لوگ ہم نے دیکھے جو مَسَرَّتوں اور لذّتوں میں غافِل تھے موت نے انہیں اپنے اہل وعیال سے جُدا کردیا۔ “ راوی کہتے ہیں : خُدا کی قسم !چند دنوں کے بعد دُولھا کا انتقال ہوگیا۔ (1)
آہ!موت کی آندھی آئی اور ٹھٹھا مسخریوں ، دھما چَوکڑیوں ، سنگیت کی دُھنوں ، چُٹکُلوں اورقہقہوں شادمانیوں اور مَسَرَّتوں ، مچلتے ارمانوں اور خُوشی کی تمام راحت سامانیوں کو اُڑا کر لے گئی۔ دُولھا میاں موت کے گھاٹ اترگئے اور خُوشیوں بھرا گھر دیکھتے ہی  دیکھتے ماتم کَدہ بن گیا۔ 
تم خُوشی کے پھول لوگے کب تلک   


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   تم یہاں زندہ رہوگے کب تلک
اس حکایت کو سن کر شادیوں میں بے ہودہ فنکشن برپا کرنے والوں اور ان میں شریک ہوکر گانے باجے کی دُھنوں پر ہنس ہنس کر خُوشی کے نعرے بلند کرنے والوں کی آنکھیں کُھل جانی چاہئیں ۔ یاد رکھئے !حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے منقول ہے : جوہنس ہنس کر گُناہ کریگا وہ روتا ہوا جہنّم میں داخل ہوگا۔ (1)
________________________________
1 –   موسوعة ابن ابی دنیا ، کتاب الاعتبار    الخ ، ۶ / ۳۱ ،  حـدیث : ۴۱
1 –   مکاشـفة القلوب ، الباب السادس والثـمانون فی الضحـک    الخ  ، ص۲۷۵
error: Content is protected !!