Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

گالی دینا اور فحش کلامی کرنا

گالی دینا

امام اہل ِ سنت الشاہ مولانا احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :”کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذن شرع گالی دینا حرام قطعی ہے ۔” (فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰،نصف اول ،ص ۱۴۰)

حضرتِ سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : ”مسلمان کو گالی دینا فسق ( گناہ) ہے۔” ( مسلم،کتاب الایمان،رقم۱۱۶،ص۵۲ )

حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرور کونین صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : ”مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔”

(الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم الحدیث ۳، ج۳، ص۳۱۱)

فحش کلامی کرنا

فحش کلامی سے مراد یہ ہے کہ ان باتوں کو واضح الفاظ میں ذکر کردیا جائے جن کا صراحۃً اظہار برا سمجھا جاتا ہو مثلاً جماع کی کیفیات یا پوشیدہ امراض کو(بلاحاجتِ شرعی ) بیان کرنا۔ (احیاء العلوم ،کتاب آفات اللسان ،ص۱۵۱)

مکی مدنی سلطان رحمتِ عالمیان صلي اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”بے شک اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدزبانی کو پسند نہیں فرماتا۔” (مسلم،رقم۲۱۶۵،ص۱۱۹۳ )
بدقسمتی سے فحش کلامی کے شوقین بھی ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائے جاتے ہیں جو حصولِ لذت اور دوستوں کی محفلیں گرمانے کے لئے شہوت بھری گفتگو کرنے کے عادی ہوتے ہیں ۔ فحش گوئی کا سہارا لے کر دادوتحسین سمیٹنے والے یاد رکھیں کہ اس کا انجام بہت بُرا ہے ،چنانچہ
٭ شہنشاہ ابرار،جناب احمد ِ مختار صلي اللہ عليہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ”چار طرح کے جہنمی کھولتے پانی اور آگ کے درمیان بھاگتے پھرتے اور ویل وثبور(یعنی ہلاکت)مانگتے ہوں گے ، ان میں سے ایک ایسا شخص بھی ہوگا جس کے منہ سے خون اور پیپ بہتے ہوں گے ۔ جہنمی کہیں گے :”اس بدبخت کو کیا ہوا کہ ہماری تکلیف میں اضافہ کئے دیتا ہے ؟”جواب ملے گا :”یہ بدنصیب ،خبیث اور بری بات کی طرف متوجہ ہوکر لذت اٹھاتا تھا مثلاً جماع کی باتوں سے ۔” (اتحاف السادۃالمتقین ،کتاب آفات اللسان ، ج۹،ص۱۸۷)

٭حضرت سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا کہ شرم و حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان والا جنت میں جائے گا اور بے حیائی ،فحش گوئی برائی کا حصہ ہے اور برائی والا دوزخ میں جائے گا۔ ”(ترمذی، کتاب البر والصلۃ ،رقم ۲۰۱۶، ج۳،ص۴۰۶)
٭حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ”فحش گو پر جنت میں داخل ہونا حرام ہے۔”(اتحاف السادۃ للمتقین ،کتاب آفات اللسان ،ج۹،ص۱۸۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اس حوالے سے بھی اپنی زبان کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!