حدیث صحیح کے مراتب

 کسی حدیث کے صحیح ہونے کیلئے جن اوصاف وشرائط کاپایاجانا ضروری ہے ان کے مختلف ہونے کی وجہ سے احادیثِ صحیحہ کے مابین آپس میں بھی تفاوت ہے کیونکہ بعض احادیثِ صحیحہ میں مذکورہ اوصاف وشرائط بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں جبکہ بعض میں کچھ کمی کے ساتھ۔چنانچہ احادیث صحیحہ کے مراتب بیان کیے جاتے ہیں۔
(۱)۔۔۔۔۔۔وہ احادیث جنہیں امام بخاری ومسلم دونوں نے اپنی صحیحین میں ذکر کیا ایسی حدیث کو متفق علیہ کہتے ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔جنہیں صرف امام بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔جنہیں صرف امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔وہ احادیث جو امام بخاری ومسلم کی شرائط پر ہوں لیکن انہوں نے انہیں روایت نہ کیا ہو۔
(۵)۔۔۔۔۔۔جو صرف امام بخاری کی شرائط پر ہوں ، لیکن انہوں نے انہیں روایت نہ کیا ہو۔
(۶)۔۔۔۔۔۔جو صرف امام مسلم کی شرائط پر ہوں، لیکن انہوں نے انہیں روایت نہ کیا ہو۔
(۷)۔۔۔۔۔۔جو امام بخاری کے علاوہ دیگر ائمہ مثلا(امام ابن خزیمہ وامام ابن حبان)کے نزدیک صحیح ہوں۔(۱)
(مشق)
سوال نمبر (1):صفاتِ راوی کے اعتبار سے خبرِ مقبول کی کتنی اور کون کون سی اقسام ہیں؟
سوال نمبر (2):صحیح لذاتہ کی تعریف ، مثال اور حکم بیان کریں۔
سوال نمبر (3):صحیح لغیرہ کی تعریف، مثال اور حکم بیان کریں۔
سوال نمبر (4):حسن لذاتہ کی تعریف، مثال اور حکم بیان کریں۔
سوال نمبر (5):حسن لغیرہ کی تعریف، مثال اور حکم بیان کریں۔
سوال نمبر (6):حدیث ضعیف کی تعریف مثال اور حکم بیان فرمائیں۔
1۔۔۔۔۔۔٭ کتب صحاح ستہ میں مذکورہ تمام احادیث صحیح نہیں تسمیہ بصحاح تغلیباًہے۔ (فتاوی رضویہ ۵/۴۳۹)٭مسلم و بخاری میں بھی ضعفاء کی روایات موجود ہیں۔ (فتاوی رضویہ ۵/۵۱۱)٭ ابن جوزی نے صحاح ستہ اور مسند امام احمد کی چوراسی احادیث کو موضوع کہا۔(فتاوی رضویہ ۵/۵۴۸)٭ بالفرض اگر کتب حدیث میں اصلاً پتا نہ ہوتا تاہم ایسی حدیث کا بعض کلماتِ علماء میں بلا سند مذکور ہونا بس (کافی) ہے۔(فتاوی رضویہ ۵/۵۵۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!