جنت کی ابدی نعمتیں

جنت کی ابدی نعمتیں

حضرت سیدناسری بن یحییٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدناسید والان بن عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے زمانے کے مشہور اولیاء کرام میں سے تھے ،وہ بہت عبادت گزار شخص تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا:” ایک مرتبہ میں رات کے پچھلے پہر تہجد کے لئے مسجد میں گیا،اللہ عزوجل نے جتنی تو فیق دی اتنی دیر میں نے نماز پڑھی او رذکر کیا، پھر مجھ پر نیند کا غلبہ ہوگیا ، میں نے خواب دیکھا کہ ایک قافلہ مسجد میںآیا ہے ،اہل قافلہ کے چہرے نہایت حسین وجمیل اور نورانی ہیں،میں نے جان لیا کہ یہ انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق ہے۔ ان کے ہاتھوں میں تھال ہیں، جن میں عمدہ آٹے کی برف کی طرح سفیدروٹیاں ہیں،ہر رو ٹی پر انگوروں کی طر ح چھوٹے چھوٹے قیمتی موتی ہیں۔اہل قافلہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے :” یہ رو ٹیاں کھالو۔ ” میں نے کہا:” میرا تو رو زہ ہے۔”تو وہ کہنے لگے:” یہ مسجد جس کا گھر ہے اس نے حکم دیا ہے کہ تم یہ کھانا کھالو ۔” میں نے کھانا شرو ع کردیاکہ جب میرا مالک حقیقی عزوجل مجھے حکم دے رہا ہے تو پھر میں کیوں نہ کھاؤں۔ کھانے کے بعد میں نے وہ موتی اٹھانا چاہے تو مجھے کہا گیا : ”انہیں چھوڑ دو،ہم تمہارے لئے ان کے بدلے ایسے درخت لگائیں گے جن کے پھل ان موتیوں سے بہتر ہوں گے ۔”
میں نے کہا :”وہ درخت کہاں لگائے جائیں گے ؟” کہا گیا :”ایسے گھر میں جو کبھی بر باد نہ ہوگا، اور وہاں ہمیشہ پھل اگتے رہیں گے ،کبھی ختم نہ ہو ں گے اور نہ ہی خراب ہوں گے ، وہ ایسا ملک ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا ، وہاں ایسے کپڑے ہوں گے جو کبھی پرانے نہ ہوں گے ، اس گھر (یعنی جنت )میں خوشی ہی خوشی ہے، میٹھے پانی کے چشمے ہیں،وہاں سکون وآرام ہے اور ایسی پاکباز

بیویاں ہیں جو فرمانبر دار، ہمیشہ خوش رہنے والیاں اوردل کو بھانے والی ہیں،وہ نہ تو کبھی ناراض ہوں گی اور نہ ہی ناراض کریں گی۔لہٰذا دنیا میں جتنا ہوسکے تم نیک اعمال کی کثرت کرو۔ یہ دنیا تو نیند کی مانند ہے کہ آنکھ کھلتے ہی رخصت ہوجائے گی ، لہٰذا اس میں جتنا ہوسکے عمل کرواور جلدی سے جنت کی طر ف آجاؤ جہاں دائمی نعمتیں ہیں ۔
پھر میری آنکھ کھل گئی لیکن ابھی تک میرے ذہن میں وہ خواب سمایا ہوا تھا اور میں جلدی جلدی اس گھر (یعنی جنت) میں پہنچنا چاہتا تھاجس کا مجھ سے وعدہ کیا گیا۔
حضرت سیدنا سید سری بن یحییٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” اس کے بعدحضرت سیدنا والان بن عیسیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تقریباً پندرہ دن زندہ رہے پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوگیا ۔ جس رات انتقال ہوا میں نے اسی رات اُن کو خواب میں دیکھا، مجھ سے فرمانے لگے : ”کیاتم ان درختوں کے پھلوں کو دیکھ کر متعجب ہورہے ہوکہ ان میں کیسے کیسے پھل لگے ہوئے ہیں؟” میں نے پوچھا:” تمہارے لئے جو درخت جنت میں لگائے گئے ہیں ان میں کس طر ح کے پھل ہیں؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” وہ تو ایسے پھل ہیں کہ جن کی تعریف بیان نہیں کی جاسکتی۔”
خدا عزوجل کی قسم! جب کوئی اللہ عزوجل کا مہمان بنتا ہے تو وہ پاک پروردگار عزوجل اس کو ایسی ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جن کے اوصاف بیان نہیں ہوسکتے ،اس کے کرم کی کوئی انتہا نہیں ،وہ اپنے بندو ں پر بے انتہا کرم فرماتا ہے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
( اللہ عزوجل ہم گناہ گارو ں پر بھی اپنا خصوصی کرم فرمائے،اور ہمیں بھی اپنے مدنی حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ جنت الفردو س میں جگہ عطا فرمائے )

؎ چُھپ چُھپ کے جہاں سے کہ انہیں دیکھ سکوں میں
جنّت میں مجھے ایسی جگہ میرے خدا دے (عزوجل)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!