Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نکاح کا شرعی حکم:

نکاح کا شرعی حکم:

یاد رہے کہ نکاح ہمیشہ سنت نہیں،بلکہ کبھی فرض،کبھی واجب ، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے۔اس کی تفصیل درج ِ ذیل ہے۔۔۔۔۔۔
فرض:
اگر یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زناء میں مبتلاء ہوجائے گا تو نکاح کرنا فرض ہے۔ایسی صورتِ حال میں نکاح نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا۔
واجب:
اگر مہرونفقہ دینے پر قدرت ہو اور غلبۂ شہوت کے سبب زناء یابدنگاہی یامشت زَنی میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نکاح واجب ہے اگر نہیں کریگا توگناہ گار ہوگا۔
سنتِ مؤکدہ:
اگر مہر ، نان و نفقہ دینے اورازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہواور شہوت کا

بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ ایسی حالت میں نکاح نہ کرنے پر اَڑے رہنا گناہ ہے ۔اگر حرام سے بچنا..یا..اتباعِ سنت ..یا.. اولاد کا حصول پیش ِ نظر ہو تو ثواب بھی پائے گااور اگر محض حصول ِ لذت یا قضائے شہوت مقصود ہو تو ثواب نہیں ملے گا ،نکاح بہر حال ہوجائے گا ۔
مکروہ:
اگر یہ اندیشہ ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح کرنا مکروہ ہے۔
حرام :
اگر یہ یقین ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے(ایسی صورت میں شہوت توڑنے کے لئے روزے رکھنے کی ترکیب بنائے)۔
(ماخوذ از بہارشریعت،کتاب النکاح،حصہ۷،ص۵۵۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
یہ بھی ذہن میں رہے کہ مرد پر لازم ہے کہ اپنی زوجہ سے قضائے شہوت کرنے میں بھی شریعت کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کرے۔لہذا! اگراس نے شرعی حدود کو قائم نہ رکھا تو وہ گناہ گار ہوگا ،شرعی حدود کو توڑنے کی کئی صورتیں ہیں۔مثلا ً
(۱) حالتِ حیض میں صحبت کرنا:
قرآن حکیم میں اس کی ممانعت کی گئی ہے چنانچہ ارشادہوتا ہے:

وَ یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الْمَحِیۡضِ ؕ قُلْ ہُوَ اَذًی ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ

فِی الْمَحِیۡضِ ترجمہ کنزالایمان : اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم ، تم فرماؤ کہ وہ ناپاکی ہے، تو عورتوں سے الگ رہو ،حیض کے دنوں (میں )۔”(پ ۲،البقرۃ : ۲۲۲)
صدر الشریعہ حکیم مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :” اس(یعنی حیض ونفاس کی ) حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں جبکہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو ،شہوت سے ہویا بلاشہوت اور اگر ایسا (کپڑا وغیرہ) حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حرج نہیں ۔”
(بہار شریعت ، مسئلہ نمبر ۳۱، حصہ ۲،ص ۱۱۸)
مزید لکھتے ہیں :” ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں ۔(بہار شریعت ، مسئلہ نمبر ۳۲، حصہ ۲،ص ۱۱۸)
(۲) پچھلے مقام میں وطی کرنا:
رحمتِ عالم صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:” جوشخص اپنی زوجہ سے اس کی دبر میں وطی کرے ،ملعون ہے۔”(ابوداؤد۔کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح،رقم ۲۱۶۲،ج۲،ص۳۶۲)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:”اللہ تعالیٰ اس مرد پر نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا جو مرد کے ساتھ جماع کرے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے ۔”
(جامع ترمذی،کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان النساء فی ادبارھن،رقم۱۱۶۸،ج۲،ص۳۸۸ )
(۳) برہنہ حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا :
فتاویٰ رضویہ میں ہے :”بحالتِ برہنگی قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰،نصف اول ، ص ۱۴۰)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!