حضرت سیدتنارابعہ عدویہ رحمۃاللہ علیہاکے شب وروز

حضرت سیدتنارابعہ عدویہ رحمۃاللہ علیہاکے شب وروز

حضرت سیدنا عیسیٰ بن مرحوم عطا ر علیہ رحمۃ اللہ الغفار فرماتے ہیں:”ایک نیک سیرت لونڈی حضرت سیدتنا رابعہ عدویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کی خدمت میں رہا کرتی تھی۔ اس لونڈی نے مجھے حضرت سیدتنا رابعہ عدویہ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کی عبادت وریاضت کے بارے میں بتایا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہاساری ساری رات نماز میں مشغول رہتیں۔ جب صبح صادق ہوتی تو تھوڑی دیر کے لئے اپنے مصلّے پر لیٹ جاتیں، اور جب ہلکا ہلکا اجالا ہونے لگتا تو فوراََ اٹھ کھڑی ہوتیں اور اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہتیں:” اے نفس! تو اس ناپائیدار دنیا میں کب تک سوتا رہے گا ؟ یہ دنیا تو تنگی کا گھر ہے ، پھر اس میں اتنی نیند کیوں ؟ آج کچھ دیر جا گ لے کچھ نیک اعمال کر لے، پھر قبر میں خوب میٹھی نیند سو جانا، وہاں تجھے قیامت تک کوئی نہیں جگائے گا، عمل یہاں کر لے آرام وہاں کرنا۔”
؎جاگنا ہے جاگ لے افلاک کے سائے تلے
حشر تک سوتا رہے گا خاک کے سائے تلے
پھرآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہااٹھ بیٹھتیں اور دو بارہ عبادت میں مشغول ہوجاتیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا نے پوری زندگی اسی طر ح عبادت وریاضت میں گزار ی ۔ جب آ پ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہاکی وفات کا وقت قریب آیا تومجھے بلا کر فرمانے لگیں :” میری موت کی وجہ سے مجھے اذیت نہ دینا یعنی میرے مرنے کے بعد چیخ وپکار نہ کرنا ، اوراسی اُون کے جُبےّ میں میری تکفین کرنا۔”
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہااسی جبہ کو پہن کرساری ساری رات اللہ عزوجل کی عبادت میں مشغول رہتیں، لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوتے لیکن یہ اللہ عزوجل کی بندی لذتِ عبادت سے لطف اندو ز ہورہی ہوتی۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کی وفات کے بعد ہم نے آپ کو اسی جُبّہ میں کفن دیا جس کی آپ نے وصیت فرمائی تھی،اور وہ چادر بھی کفن میں شامل کر دی جسے اوڑھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا عبادت کیا کرتی تھیں۔
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہاکی وفات کے تقریباً ایک سال بعد میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہاکو خواب میں دیکھاکہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا جنت کے اعلیٰ درجوں میں ہیں اور آپ نے سبز ریشم کا بہترین لباس زیبِ بدن کیا ہوا ہے، او رسبز ریشم کا دوپٹہ اوڑھا ہوا ہے، خداعزوجل کی قسم!میں نے کبھی ایساخوبصورت لباس نہیں دیکھاجیساآپ نے پہنا ہوا تھا۔
میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا سے پوچھا: ”اے رابعہ ! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کے اس جبے اور چادر کاکیا ہوا جس میں ہم نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا کو کفن دیاتھا ؟”توآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہانے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی قسم! وہ لباس مجھ سے لے لیا گیا ،او راس کی جگہ یہ بہترین لباس مجھے عطا کیا گیا ہے جسے تم دیکھ رہی ہو، اورمیرے اس جبے اور چادر کو لپیٹ کر اس پر مہر لگادی گئی اور اسے مقام

عِلِّیِّین میں رکھ دیا گیا ہے تاکہ قیامت کے دن اس کے بدلے مجھے ثواب عطا کیا جائے۔ ”میں نے پوچھا:” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہاکو اپنے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے بدلے میں اور کیا کیا نعمتیں عطا کی گئیں ؟ ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا فرمانے لگیں : ”اللہ عزوجل نے اپنے نیک بندو ں کے لئے جو نعمتیں تیار کر رکھی ہیں، وہ بیان سے باہر ہیں ۔تم نے تو ابھی ان نعمتوں کی ایک جھلک ہی دیکھی ہے، اس کے علاوہ نہ جانے کیاکیا نعمتیں اس نے اپنے اولیاء کے لئے تیار کررکھی ہیں۔”
پھر میں نے پوچھا:” عبیدہ بنت ابو کلاب علیہا رحمۃ اللہ الوھا ب کے ساتھ آخرت میں کیا معاملہ پیش آیا ؟” فرمانے لگیں: ”اللہ عزوجل کی قسم! وہ ہم سے سبقت لے گئیں اور ہم سے اعلیٰ مرتبوں میں انہیں رکھا گیا ہے۔”میں نے پوچھا:” کس وجہ سے انہیں آپ پر فضیلت دی گئی ؟حالانکہ لوگو ں کی نظروں میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہاکا مرتبہ ان سے زیادہ تھا۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہانے فرمایا:” وہ ہر حال میں اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی تھیں،اور دنیاوی فکروں سے پریشان نہ ہوتی تھیں۔” پھر میں نے پوچھا :” ابو مالک ضیغم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے ساتھ کیسا برتاؤ کیا گیا؟” فرمانے لگیں:”اللہ عزوجل نے انہیں بہت بڑا انعام عطا فرمایا ہے، وہ جب چاہتے ہیں اپنے پروردگار عزوجل کی زیارت کر لیتے ہیں ، ان کا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بہت مرتبہ ومقام ہے ۔
میں نے پوچھا:”حضرت سیدنا بشر بن منصور علیہ رحمۃالغفور کے ساتھ کیا ہوا؟” فرمانے لگیں :” ان کا مرتبہ تو قابلِ رشک ہے، انہیں تو ایسی ایسی نعمتوں سے نواز اگیا ہے جن کے بارے میں انہوں نے کبھی سوچا بھی نہ ہوگا۔”
پھر میں نے عرض کی:” مجھے کسی ایسے عمل کے متعلق بتادیجئے جس کے ذریعے مجھے اللہ عزوجل کا قرب او راس کی رضا نصیب ہوجائے ۔”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہانے فرمایا:”کثرت سے ذکر اللہ عزوجل کرو ،ہر وقت اپنے اوپر ذکر اللہ عزوجل کو لازم کرلو ۔ اگرایسا کرو گی توکچھ بعید نہیں کہ تمہاری قبر میں تمہیں ایسی نعمتوں سے نوازا جائے کہ تم قابل رشک ہوجاؤ ۔”
؎میں بے کار باتوں سے بچ کر ہمیشہ
کرو ں تیری حمد و ثنا یا الٰہی عزوجل
(اے ہمارے پاک پروردگار عزوجل!ہمیں بھی ان بزرگ ہستیوں کے صدقے ایسی زبان عطا فرما جو ہر وقت تیرے ذکر میں مشغول رہے ۔ ایسا جسم عطا فرما جو دین کی راہ میں آنے والی مصیبتوں پر صبر کرے اورایسا دل عطا فرما جو ہر وقت تیرا شکر ادا کرتا رہے۔)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!