‘یومِ عقبہ” کی تیاری

‘یومِ عقبہ” کی تیاری

حضرت سیدنا شبیب بن شیبہ الخطیب علیہ رحمۃاللہ اللطیف فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ ہم مکہ مکرمہ (زَادَھَااللہُ تَعَالٰی شَرْفاً وَتَعْظِیْماً)کے صحرائی راستوں میں سفر پر تھے۔ ایک جگہ ہم نے قیام کیا، دستر خوان لگایا اور کھانا کھانے لگے۔ گرمی کی شدت سے زمین تانبے کی طرح دہک رہی تھی، گرم گرم ہوائیں جسم کو جُھلسارہی تھیں ۔ ہم نے ابھی کھانا شروع ہی کیا تھا کہ ایک اعرا بی ا پنی حبشی لونڈی کے ساتھ ہمارے پاس آیا۔
ہم نے اس سے کہا :” آیئے! ہمارے ساتھ کھانا کھائیے۔ ”تو وہ کہنے لگا:”میں رو زہ سے ہوں۔” ہم اُس کے اِس جواب سے بہت متعجب ہوئے ( اورایسی شدید گرمی میں نفلی روزہ رکھنا واقعی تعجب خیز بات تھی )پھر وہ اعرابی ہم سے کہنے لگا : ”کیا تم میں کوئی قرآن پاک کا قاری اور کاتب ہے کہ میں اس سے کوئی چیز لکھوانا چاہتا ہوں کیا تم میں سے کوئی میری اس حاجت کو پورا کرسکتا ہے؟”
جب ہم کھانے وغیرہ سے فراغت پاچکے، تو ہم نے اس سے پوچھا:”اب بتائیے آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں؟( حتی الامکان ہم آپ کی مدد کریں گے ) وہ اعرابی کہنے لگا:”اے میرے بھائی !بے شک یہ دنیا پہلے سے موجود تھی لیکن میں اس میں نہ تھا (پھر میں پیدا ہوا) اب یہ دنیا ایک مقررہ مدت تک باقی رہے گی لیکن میں اسے عنقریب چھوڑ جاؤں گا۔”
؎ دِلا غافل نہ ہو یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے
بغیچے چھوڑ کر خالی زمین اندر سمانا ہے
اے میرے بھائی!میں چاہتاہوں کہ اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ”یوم عقبہ” کے لئے اپنی اس لونڈی کو آزاد کردوں، کیا تم جانتے ہو کہ ”یوم عقبہ” کیا ہے؟” قرآن کریم میں اللہ عزوجل کا ارشادِ پاک ہے:

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ hوَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا الْعَقَبَۃُ ﴿ؕ12﴾فَکُّ رَقَبَۃٍ ﴿ۙ13﴾

ترجمہ کنزالایمان:پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا۔اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے۔ کسی بندے کی گردن چھڑانا۔(پ30،البلد:11تا13)
لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ اس لونڈی کو اللہ عزوجل کی رضا اور یوم عقبہ کے لئے آزاد کردوں۔ اب میں تم سے جو لکھواؤں وہ مجھے لکھ دو اور میرے الفاظ کے علاوہ ایک لفظ بھی زائد نہ لکھنا۔پھر اس نے لکھوانا شرو ع کیا ،اس کے الفاظ کا مفہوم یہ تھا:”یہ میری لونڈی ہے ،اور میں نے اسے اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر، یوم عقبہ کے لئے آزاد کیا۔”اتنا لکھوانے کے بعد وہ اعرابی اس لونڈی کو آزاد کر کے ایک سمت روانہ ہو گیا ۔
حضرت سیدنا شبیب علیہ رحمۃ اللہ اللطیف فرماتے ہیں:”میں پھر بصرہ واپس آگیا اور جب بغداد میں میری ملاقات حضرت
سیدنا مہد ی علیہ رحمۃاللہ الہادی سے ہوئی تو میں نے انہیں اس اعرابی اور لونڈی والا واقعہ بتایا۔ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے: ”اس اعرابی نے اسی طر ح اپنے سو غلام اور لونڈیا ں آزاد کی ہیں ۔اور وہ جب بھی کوئی لونڈی یا غلام آزاد کرتا ہے تو اسی طرح ایک مضمون لکھواکر ا پنے پاس رکھ لیتا ہے اور لونڈی یا غلام کو آزاد کردیتا ہے ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!