Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

برکت والا نکاح

برکت والا نکاح

اُمُّ المومنین حضرت سیّدتُنا  عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا رِوایت کرتی ہیں :  رسولِ اکرم ، نورِ مجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو ۔ (1)
مفسر شہیر حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے ، مہر بھی معمولی ہو ، جہیز بھاری نہ ہو ، کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے ، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے تَوَکُّل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے ، ایسی شادی ، خانہ آبادی ہے۔ (1)
________________________________
1 –   مرآۃ المناجیح ، ٥۵/ ۱۱
error: Content is protected !!