میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں

میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں

رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر،محبوبِ ربِّ قدیرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:لَسْتُ مِنَ الدُّنْیَا وَلَیْسَتْ مِنِّییعنی میں دنیا سے اور دنیا مجھ سے نہیں۔ (فردوس الاخبار،۲/۲۱۴، حدیث:۵۳۲۲)

دنیا لعنتی چیز ہے

سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ عالیشان ہے :ہوشیار رہو دنیا لعنتی چیز ہے اور جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کے اور اس کے جو رب کے قریب کردے اور عالم کے اور طالب علم کے۔
(ترمذی،کتاب الزھد،باب ما جاء فی ھوان الدینا علی اللہ،۴/۱۴۴، حدیث: ۲۳۲۹)

دنیا کیا ہے ؟

مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیث پاک کے اس حصے ’’جو دنیا میں ہے وہ لعنتی ہے‘‘ کے تحت فرماتے ہیں :جو چیز اللّٰہ ورسول سے غافل کردے وہ دنیا ہے یا جواللّٰہو رسول کی ناراضی کا سبب ہو وہ دنیا ہے،بال بچوں کی پرورش،غذا لباس،گھر وغیرہ حاصل کرنا سنتِ انبیاء کرام ہے یہ دنیا نہیں۔اس معنی (یعنی جو اللّٰہورسول سے غافل کردے)سے واقعی دنیا اور دنیا والی چیزیں لعنتی ہیں۔(حدیث پاک کے اس حصے’’سوائے اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کے ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں:) یہ چیزیں دنیا نہیں ہیں۔اللّٰہ کے ذکر سے مراد ساری عبادات ہیں۔

والًا بنا ہے ولی سے بمعنی قرب یا محبت یا تابع ہونا یا سبب لہٰذا اس جملہ کے چار معنی ہیں:وہ حضرات انبیاء و اولیاء جواللّٰہ سے قریب کردیں یا اللّٰہ تعالٰی ان سے محبت کرتا ہے،یا جو ذکر الٰہی سے قریب کردے،یا جو ذکرُ اﷲ کے تابع ہے،یا جو ذکرُ اﷲ کا سبب ہے۔(اشعہ)یعنی اللّٰہ کا ذکر اﷲکے محبوب بندے علما طلبا اگرچہ دنیا میں ہیں مگر دنیا نہیں ہیں یہ تو اللّٰہ کے محبوب ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ اللّٰہ کا ذکر ہر عبادت ہر سعادت کا سر ہے جیسے بدن کے لیے جان ضروری ہے ایسے ہی مؤمن کے لیے ذکرُ ا ﷲ لازمی ہے۔ ذکرُ اﷲسے دنیا کا بقاء آسمان و زمین کا قیام ہے۔(مرقات)جب ذاکرین فنا ہوجائیں گے تو قیامت آجائے گی۔(مراٰۃ المناجیح ،۷/۱۷)

دُنیا کی مذمت(حکایت )

ایک مرتبہ رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا گزر ایک مردہ بکری کے پاس سے ہوا تو آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے استفسار فرمایا(یعنی پوچھا):کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک کس قدر حقیر ہے؟ پھر آپصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:اُس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے!جس قدر یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر ہے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر وذلیل ہے، اگر دنیا کی قدر و قیمت اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی توکافر کو اس
سے کبھی ایک قطرہ بھی نہ پلاتا۔(ابن ماجۃ،کتاب الزھد،باب مثل الدنیا،۴/۴۲۷،حدیث:۴۱۱۰)

میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں

شہنشاہِ نبوّت،مخزنِ جودوسخاوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ داؤد (علیہ السلام) کی طر ف وحی بھیجی کہ اے داؤد ! گنہگاروں کو یہ خوشخبری سنا دو کہ کوئی گناہ میری بخشش سے بڑا نہیں اور صدیقین کو اس بات کا ڈرسناؤ کہ وہ اپنے نیک اعمال پر خوش نہ ہو ں کہ میں نے جس سے بھی اپنی نعمتوں کا حساب لیاوہ تباہ وبرباد ہوجائے گا، اے داؤد!اگر تو مجھ سے محبت کرنا چاہتاہے تو دنیا کی محبت کو اپنے دل سے نکال دے کیونکہ میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتیں، اے داؤد!جو مجھ سے محبت کرتاہے وہ رات کو تہجدادا کرتاہے جبکہ لوگ سورہے ہوتے ہیں، وہ تنہائی میں مجھے یاد کرتاہے جب غافل لوگ میرے ذکر سے غفلت میں پڑے ہوتے ہیں ،وہ میری نعمت پر شکراداکرتا ہے جبکہ بھولنے والے مجھ سے غفلت اختیار کرتے ہیں ۔
(حلیۃالاولیاء،۸/۲۱۱،حدیث:۱۱۹۰۶الی قولہ(الا ھلک)،بحرالدموع،ص۲۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *