Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر121: قبر کے اوپرمسجد بنانا یا چراغ جلانا ۱؎ کبيرہ نمبر122: عورتوں کا قبر کی زيارت کرنا ۲؎ کبيرہ نمبر123: عورتوں کاجنازے کے ساتھ قبرستان جانا

کبيرہ نمبر121:    قبر کے اوپرمسجد بنانا یا چراغ جلانا ۱؎
کبيرہ نمبر122:    عورتوں کا قبر کی زيارت کرنا ۲؎
کبيرہ نمبر123:    عورتوں کاجنازے کے ساتھ قبرستان جانا
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں کہ سیِّدُ المبلِّغین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے قبرستان جانے والی عورتوں، قبر کے اوپر مسجد بنانے والوں اور چراغ جلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔”
 ( سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز ، باب فی زیارۃ النساء القبور،الحدیث:۳۲۳۶،ص۱۴۶۶)
 (2)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کثرت سے قبروں کی زيارت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔”
 (جامع الترمذی، ابواب الجنائز ، باب ماجاء فی کراہیۃ زیارۃ القبور لنساء،الحدیث: ۱۰۵۶،ص۱۷۵۳)
 (3)۔۔۔۔۔۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہيں کہ ہم نے مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی معيت ميں ايک ميت کو دفنايا، جب ہم فارغ ہو گئے تو رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم واپس تشريف لے آئے اور ہم بھی لوٹ آئے، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے کاشانۂ اقدس کے دروازے پر پہنچے تو ٹھہر گئے، اچانک ہم نے ايک عورت کو آتے ہوئے ديکھا، راوی فرماتے ہيں ميرا خيال ہے کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اسے پہچان ليا تھا، جب وہ چلی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت سيدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھيں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ان سے پوچھا کہ ”اے فاطمہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہا)! تمہيں کس چيز نے گھر سے نکلنے پر آمادہ کيا؟” تو انہوں نے عرض کی ”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! ميں اس ميت کے لواحقين سے ہمدردی کرنے آئی تھی۔” يا پھر کہا، ”تعزيت کرنے آئی تھی۔” توتاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا،”شايد تم ان کے ساتھ قبرستان تک پہنچ گئی تھی۔” انہوں نے عرض کی، ”معاذاللہ! ميں ايسا کيسے کر سکتی ہوں، حالانکہ ميں نے عورتوں کے قبرستان جانے کے بارے ميں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ارشادات سن رکھے ہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ”اگر تم ان کے ساتھ قبرستان چلی جاتی تو میں تمہیں اس بات پرجھڑکتا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ( سنن ابی داؤد، کتاب الجنائز ،باب التعزیۃ ، الحدیث:۳۱۲۳،ص۱۴۵۸)
 (4)۔۔۔۔۔۔جبکہ نسائی شريف کی روايت کے الفاظ يوں ہيں :”اگر تم ان کے ساتھ قبرستان چلی جاتی تواس وقت تک جنت نہ ديکھ سکتی جب تک عبد المطلب اسے نہ دیکھ لیں ۱؎۔”
    (سنن النسائی، کتاب الجنائز،باب النعی،الحدیث:۱۸۸۱،ص۲۲۱۱)
 (5)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِيم فرماتے ہيں کہ مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کہيں تشريف لے جارہے تھے کہ راستے ميں کچھ عورتوں کو بيٹھے ہوئے ديکھا تو دریافت فرمایا :”تمہيں کس چيز نے بٹھايا ہے؟” انہوں نے عرض کی ”ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہيں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا ”کيا تم اسے غسل دو گی؟” انہوں نے عرض کی ”جی نہيں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا ”کيا اسے کندھا دو گی؟” انہوں نے عرض کی ، ”جی نہيں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے دریافت فرمایا: ”کيا جو پريشان حال ہے اس کے قريب جاؤ گی؟” انہوں نے عرض کی،”جی نہيں۔” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمايا: ”پھربغير اَجر پائے گنہگار ہو کر لوٹ جاؤ۔”
 (سنن ابن ماجہ،ابواب الجنائز،باب ماجاء فی اتباع النساء الجنائز،الحدیث: ۱۵۷۸،ص۲۵۷۱)

تنبیہ:

    ان تين گناہوں کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کرنا پہلی حدیثِ پاک کی صراحت کی بناء پر ہے کيونکہ اس ميں پہلے دو گناہوں کے مرتکب پر لعنت وارد ہوئی ہے، جبکہ دوسری حدیثِ پاک دوسرے گناہ کے کبيرہ ہونے پر صريح دليل ہے اور حضرت سيدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیثِ پاک کا ظاہر بلکہ نسائی شریف کی حدیثِ پاک کے يہ الفاظ :”تم جنت نہ ديکھ پاتی۔” تيسرے گناہ کے کبيرہ ہونے پر دليل ہيں، حالانکہ ميں ان گناہوں ميں سے کسی ايک کو بھی کبيرہ گناہوں ميں شمار نہيں پاتا بلکہ ہمارے اصحابِ شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ کے کلام ميں ان کے مکروہ ہونے کی صراحت ہے نہ کہ حرام ہونے کی چہ جائيکہ وہ اسے کبيرہ گناہ  قرار ديتے، لہٰذا ان کے کبيرہ ہونے کو اس صورت پر محمول کرنا چاہے جب کہ اس کے مفاسد بہت زيادہ ہوں جيسا کہ بہت سی عورتيں قبرستان جاتی ہيں يا بہت ہی بری حالت بنا کر جنازے کے پيچھے چلتی ہيں۔ ممانعت کی وجہ يا تو نوحہ وغيرہ کرنا ہے يا قبروں کی زيارت کے وقت اپنی زينت کرنا جس پر فتنہ کا قوی انديشہ ہو اور اسی طرح قبر کے اوپر مسجد بنانا کيونکہ ايسی صورت ميں يہ غصب کے حکم ميں ہو گا کہ يہ اسراف، فضول خرچی اور حرام کاموں ميں مال خرچ کرنا ہے، لہٰذا ايسی صورت ميں انہيں کبيرہ گناہ شمار کرنا واضح ہے، ہاں ہمارے اصحابِ شوافع رحمہم اللہ تعالیٰ نے قبر کے اوپر چراغ رکھنے کی حرمت کی صراحت کی ہے اگرچہ اتنا کم ہی کيوں نہ ہو جس سے نہ تو مقيم نفع اٹھا سکے اور نہ ہی زائر اور انہوں نے اسراف، اضاعۃ المال اور مجوسيوں کی مشابہت کو اس کی علّت قرار ديا، لہٰذا ايسی صورت ميں اس کا کبيرہ گناہ ہونا بعيد بھی نہيں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 ۲؎حضرت صدرالشریعہ مفتی امجدعلی اعظمی علیہ رحمۃاللہ القوی عورتوں کے قبرستان جانے کے متعلق فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے تحریرفرماتے ہیں: ”اوراسلم یہ ہے کہ عورتیں مطلقامنع کی جائیں کہ اپنوں کی قبورکی زیارت میں تووہی جزع وفزع ہے اورصالحین کی قبورپریاتعظیم میں حدسے گزرجائیں گی یابے ادبی کریں گی کہ عورتوں میں یہ دونوں باتیں بکثرت پائی جاتی ہیں۔”    (بہارشریعت،جلد۱،حصہ ۴،ص۸۹)
۱؎ :مذکورہ حدیثِ پاک کی تشریح وتحقیق کرتے ہوئے امام اہلسنت،مجدّدِدین وملت، الشاہ امام احمد رضاخان محدثِ بریلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”واجب ہوا کہ حضرت عبد المطلب مسلمان واہل جنت ہوں اگرچہ مثلِ صدیق وفاروق وعثمان وعلی وزہراوصدیقہ وغیرھم رضی اللہ تعالیٰ عنہم سابقین اولین میں نہ ہوں اب معنٰی حدیث بلا تکلف اوربے حاجتِ تاویل وتصرُّف عقائدِاہلسنت سے مطابق ہیں یعنی اگریہ امرتم سے واقع ہوتاتوسابقین اولین کے ساتھ جنت میں جانانہ ملتابلکہ اس وقت جبکہ عبدالمطلب داخلِ بہشت ہوں گے۔”         (فتاویٰ رضویہ ،ج۳۰،ص۶ ۷ ۲)
error: Content is protected !!