Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

کبيرہ نمبر222: نسب کاانکارکرنا کبيرہ نمبر223: جھوٹے نسب کا اقرارکرنا

کبيرہ نمبر222:             نسب کاانکارکرنا
کبيرہ نمبر223:         جھوٹے نسب کا اقرارکرنا
(1)۔۔۔۔۔۔نبی کریم ،رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے اپنے نسب سے بر اء ت اختيار کی يا جس نے غير معروف نسب کا دعوی کيا اس نے کفر کيا اگرچہ تھوڑ اہی الگ ہوا ہو۔”
(المسند للامام احمد ابن حنبل،مسند عبداللہ بن عمر و بن العاص،الحدیث:۷۰۳۹،ج۲،ص۶۷۳)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناابو بکر صديق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”جس نے غير معروف نسب کا دعوی کيا اس نے اللہ عزوجل کے ساتھ کفرکيا اور جواپنے نسب سے الگ ہواخواہ ا تھوڑا ہی الگ ہواہو اس نے اللہ عزوجل کے ساتھ کفر کيا۔”
( المعجم الاوسط ، الحدیث:۸۵۷۵،ج۶ ، ص ۲۲۱)
(3)۔۔۔۔۔۔رسول اکرم، شفيع مُعظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اللہ عزوجل کے کچھ بندے ايسے ہيں کہ جن سے وہ قيامت کے دن نہ تو کلام فرمائے گا، نہ انہيں پاک کریگا اور نہ ہی ان پر نظرِ رحمت فرمائے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا۔” عرض کی گئی:”يا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! وہ کون لوگ ہوں گے؟” تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنے والدين سے منہ موڑتے ہوئے بيزاری ظاہر کرنے والا، اپنے بيٹے سے براء ت اختيار کرنے والا اور وہ شخص جس پر کسی قوم نے احسان کيا تو وہ اس کے احسان سے انکار کر کے اس سے براء ت اختيار کر بيٹھا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

( المسند للامام احمد بن حنبل ،حدیث معاذبن اٌنس الجھنی، الحدیث:۱۵۶۳۶،ج۵،ص۳۱۲)
(4)۔۔۔۔۔۔مسلم شريف کی ايک روايت کے مطابق يہاں پر انعام(یعنی احسان کرنے) سے مراد آزاد کرنا ہے اور وہ روايت يہ ہے:”جو کسی قوم کے معزز لوگوں کی اجازت کے بغير سردار بنا اس پر اللہ عزوجل ،فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے اور قيامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہو گا نہ نفل۔”
(صحیح مسلم ،کتاب العتق ، باب تحریم تولی العتیق غیر موالیہ ، الحدیث: ۳۷۹۲ ، ص ۹۳۸)

تنبیہ:

    ان دونوں صحيح احادیثِ مبارکہ اور اس سخت وعيد پر مشتمل ديگر احادیثِ مبارکہ سے ميرے بيان کی تائيد ہوتی ہے اگرچہ ميں نے کسی کو اس بات کی صراحت کرتے ہوئے نہيں پايا کہ يہ دونوں کبيرہ گناہ ہيں۔
   ان دونوں کے عظيم ضر ر، ان پر مرتب ہونے والی برائيوں، مفاسد اور اللہ عزوجل کے ارشاد فرمائے ہوئے احکام ميں تبديلی کے پيش نظر ان کے کبيرہ ہونے ميں تو کوئی شک نہيں کيونکہ بيٹا اگر جھوٹ بولتے ہوئے اپنے نسب کاانکار کردے تو وہ ظاہری احکام کے اعتبار سے اجنبی کی مثل ہو جائے گا اور اجنبی اگر کسی کو اپنا بيٹا کہے تو ظاہراً اس کے لئے بيٹے کے احکام ثابت ہو جائيں گے اور ان صورتوں کے مفاسد اور نقصانات بالکل عياں ہيں، پھر ميں نے علامہ جلال بلقينی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو ديکھا کہ انہوں نے اس کو کبيرہ گناہوں ميں شمار کيا ہے کہ جان بوجھ کر غیرکواپناباپ بتائے اوربخاری و مسلم کی اس روايت سے استدلال کياکہ،


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(5)۔۔۔۔۔۔حضورنبئ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے حالتِ اسلام ميں ايسے شخص کے لئے باپ ہونے کا دعوی کيا جس کے بارے ميں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہيں اس پر جنت حرام ہے۔”
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان حال ایمان۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۲۱۹،ص۶۹۱)
error: Content is protected !!