Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

مسلمانوں کی بیماریاں اور ان کا علاج

آج کو ن سا در در کھنے والا دل ہے جو مسلمانوں کی موجودہ پستی اور ان کی موجودہ ذلت وخواری اور ناداری پر نہ دکھتا ہو اور کون سی آنکھ ہے جو ان کی غربت، مفلسی ، بیر رز گاری پرآنسو نہ بہاتی ہو ، حکومت ان سے چھنی دولت سے یہ محروم ہوئے، عزت ووقار ان کا ختم ہوچکا زمانہ کی ہر مصیبت کا شکار مسلمان بن رہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر دو ستو فقط رو نے او ر دل دکھانے سے کام نہیں چلتا بلکہ ضروری ہے کہ اس کے علاج پر خود مسلمان قوم غور کر ے علاج کے لئے چند چیزیں سوچنا چاہیں ۔
    اوّل یہ کہ اصل بیماری کیا ہے دو سرے یہ کہ اس کی وجہ کیا ؟ کیوں مرض پیدا ہوا ؟ تیسرے یہ کہ اس کا علاج کیا ہے چوتھے یہ کہ اس علاج میں پر ہیز کیا ہے ۔ اگر ان چا ر باتو ں کو غور کر کے معلوم کرلیا گیا تو سمجھو کہ علاج آسان ہے ۔ اس سے پہلے بہت سے لیڈ ر ان قوم اور پیشوا یان ملک نے بہت غو ر کئے اور طر ح طر ح کے علاج سوچے ۔ کسی نے سو چا کہ مسلمانوں کا علاج صرف دو لت ہے ۔ مال کماؤ تر قی پاجاؤ گے ۔ کسی نے کہا اس کا علاج عزت ہے ۔ کونسل کے منبر بنو آرام ہوجائے گا کسی نے کہا کہ تمام بیاریوں کا علاج صرف بیلچہ ہے ۔ بیلچہ اٹھا ؤ بیڑا پار ہوجائے گا ۔ ان سب نادان طبیبو ں نے کچھ رو ز بہت شور مچایا ۔ مگر مر ض بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا ۔ ان کی مثال اس نادان ماں کی سی ہے ۔ جس کا بچہ پیٹ کے درد سے روتا ہے اور وہ خاموش کرنے کے لئے اس کے منہ میں دودھ دیتی ہے جس سے بچہ کچھ دیر کے لئے بہل جاتا ہے مگر پھر اور بھی زیادہ بیمار ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ ضرورت تو اس کی تھی کہ بچہ کو مسہل (یعنی پیٹ صاف کرنے والی دوائی)دیکر اس کا معدہ صاف کیا جائے ۔ اسی طر ح میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج تک کسی لیڈر معا لج نے اصل مرض نہ پہچا نا اور صحیح علاج اختیار نہ کیا اور جس اللہ کے بندے نے مسلمانوں کو ان کا صحیح علاج بتا یا تو مسلم قوم نے اس کا مذاق اڑایا اس پرآواز ے کسی زبان طعنہ دراز کی غرضیکہ صحیح طبیبو ں کی آواز پر کان نہ دھراہم اس کے متعلق عرض کرنے سے پہلے ایک حکایت عرض کرتے ہیں ۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   ایک بوڑھا کسی حکیم کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ” حکیم صاحب ! میر ی نگا ہ موٹی ہو گئی ہے۔” حکیم نے کہا:” بڑھاپے کی وجہ سے ۔”بوڑھا بولا:” کمر میں درد بھی رہتا ہے۔” حکیم نے جواب دیا :” بڑھاپے کی وجہ سے ۔”بڈھے نے کہا :”چلنے میں سانس بھی پھول جاتا ہے۔” جواب ملا کہ” بڑھاپے کی وجہ سے ۔”بڈھا بو لا:” حافظہ بھی خراب ہوگیا کوئی بات یاد نہیں رہتی ۔” طبیب نے کہا :” بڑھاپے کی وجہ سے ۔” بڈھے کو غصہ آگیا اور بولا کہ” اے بیوقوف حکیم ! تو نے ساری حکمت میں بڑھاپے کے سوا کچھ نہیں پڑھا ۔ ”حکیم نے کہا کہ ”بڈھے میاں ! آپ کو جو مجھ بے قصور پر بلا وجہ غصہ آگیا یہ بھی بڑھا پے کی وجہ سے ہے ۔”
    بعینہ آج ہمارا بھی یہی حال ہے مسلمانوں کی بادشاہت گئی عزت گئی ،دولت گئی ،وقار گیا ،صرف ایک وجہ سے وہ یہ کہ ہم نے شریعت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی چھوڑدی ہماری زندگی اسلامی نہ رہی ۔ ہمیں خدا کا خوف ، نبی کی شرم ، آخرت کا ڈر نہ رہا ۔ یہ تمام نحوستیں صرف اسی لئے ہیں اعلی حضرت قدس سر ہ فرماتے ہیں ۔
دن لہو میں کھونا تجھے شب نیند بھر سونا تجھے
شرم نبی ،خوف خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
 مسجد یں ہماری ویران ، مسلمانوں سے سینما وتماشے آباد ہر قسم کے عیوب مسلمانوں میں موجود ۔ ہندوانی رسمیں ہم میں قائم ہیں ہم کس طر ح عزت پاسکتے ہیں۔ محمد علی جو ہر نے خوب کہاہے ۔
بلبل وگل گئے گئے لیکن!
ہم کو غم ہے چمن کے جانے کا !
    دنیاوی تمام تر قیاں بلبلیں تھیں اور دولت ایمان چمن،اگر چمن آباد ہے ہزار ہا بلبلیں پھر آجائیں گی ۔ مگر جب چمن ہی اجڑ گیا تو اب بلبوں کے آنے کی کیا امید ہے ، مسلمانوں کی اصل بیماری تو شریعت مصطفی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو چھوڑ نا ہے اب اس کی وجہ سے اور بہت سی بیماریاں پیدا ہوگئیں ۔ مسلمانوں کی صدہا بیماریاں تین قسم میں منحصر ہیں ۔ اوّل رو زانہ نئے نئے مذہبو ں کی پیداواراور ہر آواز پر مسلمانوں کا آنکھیں بند کر کے چل پڑنا ۔ دو سرے مسلمانوں کی خانہ جنگیاں اور مقدمہ بازیاں اور آپس کی عدواتیں۔ تیسرے ہمارے جاہل باپ دادوں کی ایجاد کی ہوئی خلاف شرع یا فضول رسمیں ان تین قسم کی بیماریوں نے مسلمانوں کو تباہ کر ڈالا ، بر باد کردیا ، گھر سے بے گھر بنادیا مقرو ض کردیا ۔ غر ضیکہ ذلت کے گڑھے میں دھکیل دیا ۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

   پہلی بیماری کا علاج صرف یہ ہے کہ مسلمان ایک با ت خوب یاد رکھیں وہ یہ کہ کپڑا نیا پہنو ،مکان نیا بناؤ ، غذائیں نئی نئی کھاؤ ہر دنیا وی کام نئے نئے کرو مگر دین وہی تیرہ سو بر س والا پرانا اختیار کرو ہمارا نبی پرانا دین پرانا قرآن پرانا کعبہ پرانا خدا تعالی پرانا (قدیم) ہم اس پر انی لکیر کے فقیر ہیں یہ کلمات وہ ہیں جو اکثر حضرت قبلہ عالم پیر سید جماعت علی شاہ صاحب مرحوم و مغفور پیر طریقت علی پوری فرمایا کرتے تھے اور اس کا پر ہیز یہ ہے کہ ہر بد مذہب کی صحبت سے بچو، اس مولوی کے پاس بیٹھو جس کے پاس بیٹھنے سے حضور علیہ السلام کا عشق اور اتباع شریعت کا جذبہ پیدا ہو۔

     دو سری بیماری کا علاج یہ ہے کہ اکثر فتنہ وفساد کی جڑ دو چیز یں ہیں ایک غصہ اور اپنی بڑائی اور دوسرے حقوق شرعیہ سے غفلت ۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں سب سے اونچا ہوں اور سب میرے حقوق ادا کریں مگر میں کسی کا حق ادا نہ کرو ں اگر ہماری طبیعت میں سے خود نکل جائے ۔ عا جزی اور تو اضع پیدا ہو ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے تو ان شاء اللہ عزوجل! کبھی جنگ وجدال اور مقدمہ بازی کی نوبت ہی نہ آئے۔ فقیر کی یہ تھوڑی سی گفتگوان شاء اللہ عزوجل! بہت نفع دے گی بشر طیکہ اس پر عمل کیا جائے۔
   تیسری بیماری وہ ہے جس کے علاج کے لئے یہ کتاب لکھی جارہی ہے ہندوستان کے مسلمانوں میں بچہ کی پیدائش سے لیکر مرنے تک مختلف موقعوں پر ایسی تباہ کن رسمیں جاری ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں ۔میں نے خود دیکھا ہے کہ ان کے مرنے جینے شادی بیاہ کی رسموں کی بدولت صدہا مسلمانوں کی جائیدادیں ، مکانات دکانیں ، ہندوؤں کے پاس سودی قرضے میں چلی گئیں اور بہت سے اعلی خاندان کے لوگ آج کرایہ کے مکانوں میں گز ر کررہے ہیں اورٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ ایک نہایت شریف خاندانی رئیس نے اپنے باپ کے چالیسویں کی رو ٹی کے لئے ایک ہندو سے چار سور وپے قر ض لئے جس سے ستا ئیس سو روپے دے چکے ہیں اور پندرہ سواور باقی تھے ان کی جائیداد بھی قریبا ختم ہوچکی ۔اب وہ زندہ ہیں۔ صاحب اولاد ہیں فاقہ سے گز ر کر رہے ہیں۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     اپنی قوم کی اس مصیبت کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا ۔ طبیعت میں جوش پیدا ہوا کہ کچھ خدمت کرو ں ۔ رو شنائی کے چند قطرے حقیقت میں میرے آنسوؤں کے قطرے ہیں خدا کرے کہ اس سے قوم کی اصلاح ہوجائے ۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ بہت سے لوگ ان شادی بیاہ کی رسموں سے بیزار تو ہیں مگر برادری کے طعنوں اور اپنی ناک کٹنے کے خوف سے جس طر ح ہوسکتا ہے قرض ادھار لے کر ان جہالت کی رسموں کو پورا کرتے ہیں ۔ کوئی ایسا مرد میدان نہیں بنتا جو بلا خوف ہر ایک کے طعنے برداشت کر کے تمام رسموں پرلات مار دے اور سنت کو زندہ کر کے دکھادے جو شخص سنت موکدہ کو زندہ کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے کیونکہ شہید تو ایک دفعہ تلوار کا زخم کھا کر مر جاتا ہے مگر یہ اللہ کا بندہ عمر بھر لوگوں کی زبانوں کے زخم کھاتا رہتاہے۔
    واضح رہے کہ مروجہ رسمیں دو قسم کی ہیں ایک تو وہ جو شرعا نا جائز ہیں دوسری وہ جو تباہ کن ہیں اور بہت دفعہ ان کے پورا کرنے کے لئے مسلمان سودی قرض لیتے ہیں اور سود دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی ۔ اس لئے یہ رسمیں حرام کا م کا ذریعہ ہیں اس رسالہ میں دو نوں قسم کی رسموں کا ذکر کیا جائے گا او ر بیان کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس رسالے کے علیحدہ علیحدہ باب ہوں گے ۔ یعنی پیدا ئش کی رسموں کا ایک باب پھربیاہ شادی کی رسموں کا ایک باب پھر موت کی رسموں کا علیحدہ باب وغیرہ وغیرہ ہر رسم کے متعلق تین باتیں عرض کی جائیں گی اول تو مروجہ رسم اور پھر اس کی خرابیاں پھر اس کا مسنون اور جائز طریقہ ۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس کتاب کا نام” اسلامی زندگی” رکھتا ہوں اور رب کریم کے کرم سے امید ہے کہ وہ اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں اس کو اسم بامسمی بنائے اور قبول فرما کر مسلمانوں کو اس پر عمل کی تو فیق دے میرے لئے اس کو تو شئہ آخرت اور صدقہ جاریہ بنادے ۔ آمین آمین
یَارَبَّ الْعٰلَمِیْنَ بِجَاہِ رَسُوْلِکَ الرَّءُ وْ فِ الرَّحِیْمِ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَ
   ناچیز 
                احمدیارخان نعیمی اوجھانوی بدایونی
               دوم صفر المظفر یوم جمعۃ المبارک ۱۳۶۳ھ
error: Content is protected !!