آیتِ کریمہ(وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ)کی وضاحت:

آیتِ کریمہ میں کم تولنے والے کو اس لئے مُطَفِّف کہا گيا ہے کيونکہ وہ ہميشہ کم تولی ہوئی چيز ہی ديتا ہے جو کہ چوری اور خيانت کی ايک قسم ہے باوجود اس کے کہ اس ميں بالکل عدمِ مُرُوَّت کا اظہار ہے اور اسی وجہ سے وَيْْل کے ساتھ انجام بتايا گيا جو کہ شديد عذاب ہے ياجہنم ميں ايک وادی ہے اگر اس ميں دنيا کے پہاڑ رکھے جائيں تواس کی گر می کی شدت سے پگھل جائيں، ہم اس سے اللہ عزوجل کی پناہ مانگتے ہيں اور اسی طرح اللہ عزوجل نے ماپ تول ميں کمی کی وجہ سے حضرت سيدنا شعيب علی نبينا وعليہ الصلوٰۃ والسلام کی قوم کو شديدسزادی۔
سوال:غصب کے باب ميں آئے گا کہ چاردينار سے کم غصب کرنا کبيرہ گناہ نہيں تو اس کا تقاضاہے کہ يہاں بھی اسی طرح ہو؟
جواب:اس میں اشکال ہے پس اس پر قياس نہيں کيا جائے گابلکہ اس کے خلاف پر اجماع ہے اورعلامہ اذرعی علیہ ر حمۃاللہ القوی فرماتے ہيں کہ”يہ حد بندی قابل اعتبار نہيں۔”
    ان ميں اس طور پر فرق کيا جائے گا کہ غصب ان چيزوں ميں سے نہيں جن کا قليل کثير کی طرف لے جاتا ہے کيونکہ يہ جبر اور غلبہ کے طور پر ليا جاتا ہے، لہذا اُس کا قليل کثير کی طرف نہيں لے جاتاالبتہ!کم ماپ تول کا معاملہ اس کے برخلاف ہے،کيونکہ يہ مکر، خيانت اور حيلہ کے طور پر ليا جاتا ہے، لہذا اس کا قليل کثير کی طرف لے جاتا ہے پس اس سے نفرت دلانا متعين ہو گيا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اس کی صورت يہ ہے کہ ہر وہ چيز جس کی قليل اور کثير مقدار کبيرہ گناہ ہے تو اس کا وہی حکم ہو گاجو شراب کا ايک قطرہ پينے کا ہے کيونکہ يہ کبيرہ گناہ ہے اگرچہ اس ميں شراب کا فساد نہ بھی پايا جائے، اس لئے کہ يہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس کی قليل مقدار کثير کی طرف لے جاتی ہے، لہذا اس فرق کی بناء پر چوری کو غصب کے ساتھ ملانا مشکل نہيں ہے کيونکہ چور کو اکثر خوف ہوتا ہے اور اس کے لئے غير کا مال لينا ممکن نہيں ہوتا يہاں تک کہ کہاجائے کہ اس کی قليل مقدار(یعنی چھوٹی چوری) کثيرمقدار(یعنی بڑی چوری) کی طرف لے جاتی ہے البتہ!”مُطَفِّف”(يعنی ماپ تول ميں کمی کرنے والے )کامعاملہ اورہے،کيونکہ اس کے لئے غير کا مال لينا ممکن ہوتا ہے، پس اس ميں قليل مقدار کا کثير مقدار کی طرف لے جانا زيادہ آسان اور ظاہر ہے۔ اس میں غور وفکر کروکیونکہ ميں نے کسی کو اس پر آگاہ ہوتے يا اشارہ کرتے نہيں پایا۔
    نیز يہ بات اس فرق کی تائيد بھی کرتی ہے کہ ايک جماعت نے غصب ميں مذکورہ شرط لگائی ہے اور کہاہے کہ”چوری ميں ايسی کوئی شرط نہيں۔”گويا انہوں نے میرے ذکر کردہ کلام ميں غورکيا اور اس کے اور غصب کے درميان ميرے ثابت کردہ ظاہر فرق کی وجہ سے بعض متاخرين علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا يہ مؤقف بھی ردہوگيا :”معمولی طورپر تول میں کمی کرناصغيرہ ہے۔”مگر غصب ميں اختلاف اس صورت میں منقول ہے کہ وہ اختلاف ايک دينار اٹھا لينے پرحدلگانے کے بارے میں ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    البتہ اتنی معمولی سی چيز غصب کرنا یاکم تولنا بھی صغیرہ گناہ ہونا چاہے جس کو اکثر لوگ معاف کر ديتے ہيں غصب کرنا بھی صغيرہ ہونا چاہے، اور يہ بعيد بھی نہيں، ليکن اکثر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰفرماتے ہیں کہ”ان ميں کوئی فرق نہيں۔” اسی وجہ سے سیدنا ابن عبد السلام رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے بيان کيا ہے کہ”اناج غصب کرنا ياچوری کرنا بالاجماع کبيرہ گناہ ہے۔” گويا انہوں نے اکثر علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے مطلق قول سے يہ اخذ کيا ہے جس کی جانب میں نے اشارہ بھی کیا ہے، اس کی مزید وضاحت غصب کے باب میں آئے گی۔

آگ کے دوپہاڑ:

    حضرت سیدنا مالک بن دينار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں:”ميں ايک مرتبہ اپنے پڑوسی کے پاس گيا اس حال ميں کہ اس پر موت کے آثار نمايا ں تھے اور وہ کہہ رہاتھا:”آگ کے دو پہاڑ، آگ کے دو پہاڑ۔” آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”ميں نے اس سے پوچھا:”کيا کہہ رہے ہو؟” تو اس نے بتایا:”اے ابو يحيی! ميرے پاس دو پيمانيتھے، ايک سے ديتا اور دوسرے سے ليتا تھا۔” حضرت سیدنا مالک بن دينار رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں:”ميں اٹھا اور ايک پیمانے کو دوسرے پر ( توڑنے کی خاطر) مارنے لگ گيا۔” تواس نے کہا:”اے ابو يحيی! جب بھی آپ ايک کو دوسرے پر مارتے ہيں معاملہ زيادہ شديداور سخت ہو جاتاہے۔” پس وہ اسی مرض ميں مر گيا۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کسی نیک بزرگ کا قول ہے:”ہر تولنے اور ماپنے والے پر آگ پيش کی جائے گی کيونکہ کوئی نہيں بچ سکتا سوائے اس کے جسے اللہ عزوجل بچائے۔”

کم تولنے کے بارے میں حکایت:

    ایک شخص کا بیان ہے:”ميں ايک مريض کے پاس گیا جس پر موت کے آثار نماياں تھے، ميں نے اسے کلمہ شہادت کی تلقين شروع کر دی لیکن اس کی زبان پر کلمہ جا ری نہيں ہو رہا تھا، جب اسے افاقہ ہوا تو ميں نے کہا:”اے بھائی!کیا وجہ ہے کہ ميں تجھے کلمۂ شہادت کی تلقين کر رہا تھا ليکن تمہاری زبان پر کلمہ جاری نہیں ہو رہا تھا؟”اس نے بتایا:”اے میرے بھائی! ترازوکے دستے کی سوئی ميری زبان پر تھی جو مجھے بولنے سے مانع تھی۔” ميں نے اسے کہا:”اللہ عزوجل کی پناہ! کياتم کم تولتيتھے؟” اس نے کہا:”نہيں اللہ عزوجل کی قسم! مگر ميں نے کچھ مدت تک اپنيترازو کابٹ (یعنی پتھر) صحيح نہ کيا۔” پس يہ اس کا حال ہے جو اپنيترازو کا پتھر صحيح نہ کريتواس کا کيا حال ہو گا جو تولتا ہی کم ہے۔

کم تولنے والوں کی مذمت:

 (6)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہيں:”حضرت سيدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ايک بيچنے والے کے پاس سے گزرتے ہوئے يہ فرما رہيتھے:”اللہ عزوجل سے ڈر! اور ماپ تول پورا پورا کر! کيونکہ کمی کرنے والوں کوميدانِ محشر ميں کھڑا کيا جائے گايہاں تک کہ ان کا پسينہ ان کے کانوں کے نصف تک پہنچ جائے گا۔”  (تفسیرالبغوی،سورۃ المطففین،تحت الآیۃ:۳،ج۴،ص۴۲۸)
    جيسا کہ ماپنے اور تولنے والے کے بارے میں گزر چکا ہے کہ جب تاجر بيچتے وقت پيمانے کو کھينچ کر رکھے اور خريدتے وقت ڈھيلا چھوڑ ديتو يہی کپڑا بيچنے والے فاسقوں اور تاجروں کی عادت ہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    کسی نے کتنی اچھی بات کہی ہے:”ہلاکت ہو پھرہلاکت ہو اس کے لئے جو ايک دانہ بيچتاہے جو اس کی جنت کو کم کر ديتا ہے، جس کی چوڑائی زمين و آسمان جتنی ہے اور ايک دانہ خريدتا ہے جو جہنم کی وادی ميں اضافہ کر ديتا ہے جو دنيا کے پہاڑوں اور جو کچھ ان ميں ہے اسے پگھلا کر رکھ دے۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *