Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی کی تصنیف لطیف الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع

شیخ الاسلام امام محمد انوار اللہ فاروقی
کی تصنیف لطیف الکلام المرفوع فیما یتعلق بالحدیث الموضوع  

مطالعہ و جائزہ:ڈاکٹر شاہد علی عباسی ‘شعبہ اسلامیات ‘جامعہ عثمانیہ ، حیدرآباد

۱۔تمہید:
حدیث‘ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صدرِ اول سے ایک حساس موضوع رہی ہے صحابہ کرام ؓ وتابعین عظام ؒ نے قرآنی نصوص کی صراحتوں اور جناب رسالتمآب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (روحی وابی فداہ )کی دین وشریعت میں مرکزی حیثیت ہونے کے باعث حدیث وسنت کو ہمیشہ اہم سمجھا اور احکام کی تفسیر وتفصیل ، تعمیم وتقیید اور توضیح وتبیین کے لیے حدیث کو بنیاد مانا پھر مشیت الٰہی سے ایسے حالات پیدا ہوئے کہ کتاب اللہ اور احکام دینیہ میں ومراد شارع جاننے میں قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قول فیصل ہونے کے سبب مختلف افراد نے سازش ، جہالت ، بے احتیاطی ، سہل انگاری ، (قومی ، لسانی ، قبائلی ، فقہی ، کلامی) تعصب ، سیاسی ودنیوی مفاد وغیرہ کے تحت حدیث رسول ؐ کومشکوک بنانے میں اپنا اپنا کردار اداکیا جس کا مثبت نتیجہ حدیث اور علوم حدیث کی تدوین وتحقیق وتنقیح کی شکل میں سامنے آیا ، الحمد للہ علی ذلک ۔ان ہی علوم میں معرفت وضع حدیث نے ایک مہتمم بالشان حیثیت حاصل کرلی رفتہ رفتہ 
کتابؔ الاباطیل للجوزفانی ؒ 
کتابؔ الموضوعات والعلل المتناھیۃ فی الأحادیث الواھیۃ  کلاھما لأبی الفرج عبدالرحمن ابن الجوزی ؒ 
المغنیؔ عن الحفظ والکتاب لعمربن بدر الموصلی ؒ
 تذؔکرۃ الموضوعات۔لمحمد بن طاہر المقدسیؒ
 الدرؔالملتقط فی تبیین الغلط لحسن بن محمد الصنعانی 
ؒالتعقباؔت علی الموضوعات  ذیل الموضوعات 
 اللألیؔ المصنوعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ کلہا لجلال الدین السیوطی ؒ
 الأسراؔء المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ 
الھبات ؔ السنیات فی تبیین الأحادیث الموضوعۃ المصنوؔع فی معرفۃ  الحدیث الموضوع کلہا لملاعلی القاریؒ 
تذؔکرۃ الموضوعات  وقانون الموضوعات لمحمدبن طاہر الفتنیؒ
 تنزؔیہ الشریعۃ المرفوعۃ عن الأخبار الشنیعۃ  الموضوعۃ  لابن عراقؒ
الفوؔائد المجموعۃ فی الأحادیث الموضوعۃ لمحمدبن علی الشوکانیؒ
 الفوؔائد الموضوعۃ  فی الأحادیث الموضوعۃ للکرمیؒ اللؤؔلؤ المرصوع فیما لاأصل لہ أوبأ صلہ موضوع لمحمدبن أبی المحاسن القاوقجی الحسنی
 اورالاؔثار المرفوعۃ فی الأخبارالموضوعۃ لعبد الحی فرنگی محلیسامنے آئیں ان محدثین نے اپنی اپنی تصانیف میں جن احادیث کو اپنی دانست میں بے اصل یا موضوع (ھوالکذب المختلق المصنوع وھوشرا لضعیف واقبحہ  وتحرم روایتہ مع العلم بہ ای بوضعہ فی ای معنی کان سواء الاحکام والقصص والترغیب وغیرھا ارامبیناً کماقال السیوطی فی تدریب الراوی ج ۱ص۲۷۴) سمجھا جمع کیا ان میں مختلف وجوہ سے کتاب الموضوعات لأبی الفرج ابن الجوزی ؒ کو غیرمعمولی شہرت ملی حالانکہ علامہ ابن الجوزی نے وضعیت کا حکم لگانے میں کماحقہ احتیاط نہیں برتی   فذکر کیثرا ممالا دلیل علی وضعہ بل ھو ضعیف کما قا ل النووی فی التقریب ج ۱ص۲۷۸بل وفیہ الحسن والصحیح (کما افاد السیوطی فی التدریب ج۱ص۲۷۸) ۔
بل ربما ادرج فیھا الحسن والصحیح مماھو فی احد الصحیحین فضلاً عن غیرھما ، وھو مع اصابتہ فی اکثر ماعندہ منکر ینشأ عنہ غایۃ الضرر من  ظن مالیس بموضوع،  بل ھوصحیح موضوعاً مماقد یقلدہ فیہ  العارف تحسیناً للظن بہ حیث لم یحث  فضلاً  عن غیرہ …ولذا کان الحکم من المتأخرین عسراًجداً (کماقال السخاوی فی فتح المغیث ج۱ص۲۷۶۔۲۷۷) 
اس تشدد فی الجرح وتساھل فی الحکم بالضعف والوضع کی وجہ سے علامہ ابن الجوزیؒ پر محققین برابر تنقید کرتے رہے مگر جب علامہ رضی الدین حسن صنعانی ؒ، علامہ تقی الدین ابن تیمیہؒ ،علامہ مجدالدین فیروزآبادیؒ اور علامہ محمد بن علی شوکانی ؒنے الگ الگ اندازمیں تقریباًیہی روش اپنائی تو انصاف پسند معتدل مزاج علماء مضطرب ہوگئے کہ کہیں یہ شدت پسندی کوئی اور گل نہ کھلا بیٹھے شیخ الاسلام حضرت علامہ حافظ انواراللہ فاروقی قدس اللہ سرہ ان ہی میں سے ایک ممتاز عالم تھے جنہوںنے اس شدت پسندی کے سیلاب کو روکنے ہی کی غرض سے قلم اٹھا یا او روضعیت حدیث پر ایک محققانہ پُر مغز بحث سپر د تحریر کی یہ بحث اصلاً حافظ انواراللہ صاحب علیہ الرحمۃ کی مشہور تصنیف ’’انوار احمدی ‘‘کا ایک جزو تھی لیکن اپنے مخدوم ومطاع، شیخ الکل، حضرت مولانا شاہ امداداللہ فاروقی مہاجر مکی قدس اللہ سرہٗ کے حکم پر
 ’’الکلام المرفوع فیمایتعلق بالحدیث الموضوع ‘‘
کے نام سے علیحدہ اشاعت کا انتظام فرمایا چنانچہ طابع اول ڈپٹی محمد عبدالرحیم صاحب نے مطبع ہاشمی (میرٹھ) سے اسے بہ تعداد کثیرطبع فرمایا بعد ازاں حافظ صاحب علیہ الرحمہ نے اس پر نظر ثانی کی اور رفع اغلاط کے علاوہ مطالب ضروریہ کا اضافہ فرمایا مگر طبع ثانی سے پہلے ہی آپ واصل بجوار رحمت حق ہوگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون ، صدرالصدور مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی ؒ کی ایماء پر مجلس اشاعت العلوم نے مطبع شمس الاسلام (حیدرآباد ) سے سنہ ۱۳۴۱؁ھ میں اسے شائع فرمایا اس وقت یہی نسخہ اس ناچیز کے سامنے موجودہے اس میں بشمول فہرست واغلاط نامہ کل ۱۱۵ صفحات میں فہرست مضامین ۲ صفحات پر مشتمل ہے او راغلاط نامہ میں۱۳غلطی ہائے کتابت تصحیح کی گئی ہے کاغذ قدامت کے سبب اتنا بوسیدہ ہوگیا ہے کہ ذرا سی بے احتیاطی بھی برداشت نہیں کرپاتا۔ امتثالِ امرکی خاطر اپنی نالائقی کے باوصف اس ناچیز نے اس رسالہ کے متعلمانہ تعارف وتجزیہ کا ارادہ کیا ہے اس تجزیہ کی ہیئت کچھ اس طرح ہے حافظ صاحب علیہ الرحمہ کے اپنے الفاظ کو حتی الامکان برقرار رکھتے ہوئے الکلام المرفوع  کے مضامین کی تلخیص ، مرکزی موضوع کی تعیین ، مأخذ کی فہرست ، تصحیفات کی نشاندہی ، مجموعی تبصرہ اور چندسوالات واشکالات کی جسارت ۔
تلخیص رسالہ الکلام المرفوع:
زمانہ صحابہ کے بعد دوقسم کی ضرورتیں پیش ہوئیں ایک حفاظت الفاظ دوسرے فہم معنی اور رفع تعارض جو ظاہر احادیث وآیات میں معلوم ہوتا ہے جو علماء کہ امراول کے متکفل ہوئے وہ محدثین ہیں اور امرثانی کے متکفل فقہاء ہیں ضرورت کی وجہ یہ تھی کہ بے دین لوگوں نے حدیثیں بنانا شروع کردیا تھا (ص ۴۔۵)
محدثین نے جو قواعد جرح وتعدیل کے مقرر کیے ہیں مدار اونکا تجربہ اور وجدان پر ہے اسی وجہ اہلِ بدعت سے روایت لینے میں اختلاف ہے ابن سیرینؒ کے قول (کے مطابق ) زمانہ تابعین میں اہل ہوا سے کسی فرقہ کی روایت نہیں لی جاتی تھی او رطاؤسؒکا مذہب معلوم ہوتا ہے کہ کل اہلِ بدعت سے روایت درست ہے (ص۷۔۸)
یزید بن ہارون کا مذہب یہ ہے کہ سوائے روافض کے کل اہل بدعت سے روایت جائزہے (ص۸)
امام مالکؒ شافعی ؒشریک ،ابن مبارک کا اس پر اتفاق ہے (ص۹)
امام بخاری ؒ نے بتقلید بعض اساتذہ کے روایت روافض کو جائز رکھا ہے(ص۹)
الحاصل …جرح او رتعدیل کی بنا اجتہادپر ہے اس سے واقع کا حال معلوم نہیں ہوسکتا اسی وجہ سے ایک ہی حدیث کو بعض حسن کے قریب کردیتے ہیں اور بعض موضوعات کے ساتھ ملادیتے ہیں اگر کسی حدیث کے اسناد میں کوئی راوی ایسا ہوکہ جس کو محدثین نے وضاع اور کذاب کہاہے اسکو بھی قطعاً موضوع نہیں کہتے چنانچہ …امام نسائی کا قول جب تک کل محدثین کا اجماع کسی راوی کے متروک ہونے پر نہ ہوجائے وہ متروک نہیں ہوسکتا (ص۱۷)بلکہ اگر خود راوی کہہ دے کہ میںنے یہ حدیث بنائی ہے تو اوس حدیث کو بھی قطعاً موضوع نہیں کہہ سکتے ،کیونکہ اس میں بھی لازم آتاہے کہ بعد اعتراف وضع کے اوس  کے قول  پر عمل کیا جائے اور یہ اگرچہ اس حدیث کے رد کرنے  کے لیے کافی ہے لیکن قطعاً یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ حدیث نفس الامر میں موضوع ہو(ص۱۸۔۱۹)
یعنی محدثین کے کل حکم بحسب ظاہر ہیں نفس الامرمیں نہیں  پھرجب خود اگراوسے واضع کی موضوعیت واقعی ثابت نہ ہو تو صرف قرائن سے کیونکر ثابت ہوسکے (ص۱۹)
اب ان قرائن کو دیکھنا چاہیے جو نفسِ حدیث میں ہوں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ الفاظ حدیث میں رکاکت ہوجو شان فصاحت نبوی علی صاحبہا الف الف صلوۃ وتسلیم سے بعید ہے او ریہ قرینہ بھی قطعی نہیں اس لیے کہ روایت بالمعنی اکثر محدثین کے پاس درست ہے ،(ص۲)
دوسرا قرینہ یہ ہے کہ معنی میں رکاکت ہو اسکے (اسکی )کئی صورتیں ہے ایک یہ کہ مخالف عقل کے ہو یہ بھی کلیہ نہیں ہوسکتا کیونکہ جس عقل کی مدح میں حدیث قوام المرء عقلہ …واردہے وہ خود کیمیا (یعنی نادر الوجود) ہے اگر ایسی عقل سلیم نصیب نہوتو اس (ان) احادیث کو جو بظاہر خلاف عقل ہیں مگر اعتقادسے مان لی گئیں مثل احادیث معراج و حشر  وصراط وغیرہ کے اعتقاداً مان سکتے ہیں جبتک کہ خلاف عقیدہ اہل سنت وجماعت نہ ہو او راگر بظاہر خلاف عقیدہ بھی مگر تاویل صحیح قبول کرسکتی ہے تو جب (تب) بھی قطعاً موضوع نہ ہوگی کیونکہ اکثراحادیث میں تاویل ہواکرتی ہے (ص۲۰۔۲۱)
دوسری صورت یہ ہے کہ خلاف نصوص قطعیہ ، حدیث متواترہ یا اجماع وغیرہ کے ہوتویہ بھی نفس الامر میں موضوع اسوقت سمجھی جائے گی جبکہ تاویل قبول نہ کی ہے اور ظاہر ہے کہ باب تاویل وسیع ہے (ص۲۱)
حاصل ان دونوں قرینوں کایہی ہے کہ مخالفت عقل ونصوص کی وجہ سے وہ موضوع ٹھہرائی جارہی ہے اور جب کسی وجہ سے وہ مخالفت رفع ہوجائے تو اس حدیث کو موضوع کہنا بلاوجہ ہوگا ،اور ظاہرہے کہ بلا وجہ کسی حدیث کو موضوع کہہ دینا گناہ سے خالی نہیں کما ورد عن سیلمان قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کذب علی متعمد ا فلیتبوّا بیتافی النار ومن رد حدیثاً بلغہ عنی فأنا مخاصمہ یوم القیمۃ وان ابلغکم عنی حدیث فلم تعرفونہ فقولوا اللہ اعلم طب کذا فی کنزالعمال ۔
تیسرا قرینہ وضع کا جو نفس حدیث میں ہوتا ہے وہ یہ کہ تھوڑے کام کا زیادہ ثواب یا وعید سخت  (ص ۳۰)
مگر اس پر بھی قطعیت وضع کی معلوم نہیں ہوسکتی کیونکہ کثرت ثواب کامدار فضل الہی پر ہے (ص۳۱)
دیکھ لیجے ایک رات کی عبادت کا ہزار مہینے کی عبادت پر فضیلت ہونا قرآن شریف سے ثابت ہے ، اور حدیث بطاقہ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے (ص۳۱)پس معلوم ہوگیا کہ تھوڑے کام کا زیادہ ثواب مستبعدنہیں (ص۳۳)یہ بات معلوم ہوئی کہ محدثین کے اجتہاد واستدلال ایک قسم کے نہیں ہیں کسی کی نظر مصالح سے متعلق ہوتی ہے اور کسی کی نفس اسناد سے (ص۴۱) سیوطیؒ نے نقل کیا کہ ابن جوزی ؒ بڑے فاضل تھے ابن خلکانؒ نے وفیات الاعیان میں ان کا حال لکھا ہے کہ وہ فن حدیث میں علامہ اورامام وقت تھے (ص۴۱)حدیث کو موضوع قرار دینے سے ان کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ حدیث (یعنی حدیث صلوۃ التسبیح) صحیح سمجھی جائے تو لوگ اس پر اعتماد کرکے کہیں عمل نہ چھوڑدیں اسی طرح ابن تیمیہؒ نے زیارت نبی کریم ﷺ کی ممانعت میں اسقدر زور دیا کہ جتنی حدیثیں زیارت کے باب میں وارد ہیں ان سب کو موضوع قراردیا اس خیال سے زیارت و توسل واستغاثہ وغیرہ سے شرک لازم آتاہے شیخ تقی الدین سبکیؒ نے ا ونکی رد میں شفاء السقام تصنیف کی ، اورثابت کردیاکہ وہ سب حدیثیں صحیح ہیں اور توسل وغیرہ درست ہے (ص۴۲) الغرض اکثریہ ہوتا ہے کہ بحسب مقتضی وشان طبیعت وغیرہ ایک صحیح غرض محدثین کے پیش نظر ہوتی ہے (ص۴۴) ۔ جس کے لحاظ سے اسناد پر غورکرکے جرح وتعدیل میں ان اقوال پر اعتماد کرتے ہیں جو مفیدمدعیٰ ہوں (ص ۴۵) ایسے موقع میں خوامخواہ بعض امور نظر سے فروگذاشت ہوجاتے ہیں ابن جوزیؒ نے موضوعات اور ضعاف جمع کرنے کی طرف توجہ کی اور موضوعات میں ایک کتاب او ر ضعاف میں ایک کتاب لکھی جس کانام علل متناہیہ فی الاحادیث الواہیہ ہے اوراسقدر جمع کیاکہ بعض بخاری ومسلم کی حدیثوںکوبھی موضوعات اور ضعاف میں داخل کردیا ، علی ہذاالقیاس جوکوئی کسی خاص مسئلہ میں رسالہ لکھتا ہے تقریر کرتا ہے ہمہ تن توجہ اس کی اس بات یہ ہوتی ہے کہ جتنے (جتنی )حدیثیں اپنے مفید مدعی ہوسکیں سب ذکر کردیے جائیں اگر کوئی او س کی تردید کی طرف متوجہ ہوتو معاملہ پر عکس ہوجاتا ہے اسمیں یہ ضرور نہیں کہ اون دونوں کا مبنی نفسانیت پر ہو بلکہ ہر ایک کی غرض صحیح ہوتی ہے جس کے پوری کرنے پر بمقتضائے طبع وہ مجبور ہے اور ممکن ہے کہ خطا بھی ہوجائے(ص۴۵۔۴۶)
اب رہے وہ قرائن جو خارجی ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ کسی واقعہ میں ایک جماعت کثیرہ موجودہو اور سوائے ایک شخص کسی نے اس کو روایت نہ کی ہو اس سے بھی قطعیت وضع کی ثابت نہیں ہوسکتی اس لئے کہ کل حدیثیں تو محدثین کوپہونچی ہی نہیں ، اور کل احادیث کانہ پہونچنا یوں ثابت ہوسکتا جو آج تک موجود ہیں ایک لاکھ تک پہنچے ہیں …آنحضرتﷺ کے اقوال اگر دن رات میں دس گیارہ ہی فرض کے جائیں تو صرف ایام نبوت کے اقوال تقریباً ایک لاکھ ہوجاتے ہیں …پھر احادیث افعال وتقریر اور صحابہ وتابعین کے اقوال وافعال اور اخبار کتب ماضیہ وغیرہ امور جن پر کہ اطلاق حدیث کا ہوتا ہے باقی رہ جاتے ہیں (ص۴۷۔۴۹) قدماسے کسی محدث نے کل صحیح حدیثوں ، کے جمع کرنے کا قصد نہیں کیا اس لیے کہ یہ دعوی حیزّامکان  سے خارج ہے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ‘ نے اپنے (عہد) خلافت میں اس کا ارادہ فرمایا تھا مگر مصلحت نہ جان کر ترک کردیا (ص۴۹۔۵۰)
منجملہ اور مواقع کے ایک یہ بھی ہے کہ مصنفین کو ہر تصنیف میں ایک قسم کا التزام ہوا کرتا ہے جس کی تکمیل میں زیادہ مدت صرف ہوتی ہے او ردوسرے مقاصد کی طرف توجہ کرنے کی نوبت نہیں آتی چنانچہ امام بخاریؒ نے جامع صحیح کی تصنیف کے وقت یہ التزام کیا تھا کہ جوترجمۃ الباب لکھیں یا حدیث نقل کریں پہلے غسل کرکے دورکعت نماز پڑھ لیتے چنانچہ اسی وجہ سے سولہ (۱۶) سال میں وہ کتاب ختم ہوئی (ص۵۲)
اورمنجملہ اون مواقع کے جس کی وجہ سے کل حدیثیں محدثین کو نہیں پہونچیں ایک یہ کہ طبیعتوں میں اون حضرات کے احتیاط تھی۔(ص۵۹)
بعض محدثین بہت سی روایتیں خوف سے بیان نہ کرسکے (ص۶۱)
اور تقلیل روایت ہونے کا یہ بھی ایک باعث ہوا جو علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ ؍ایسی بات بیان نہ کرو جو لوگوں کے سمجھ میں نہ آوے اسلئے ہر ایک محدث کو اس کے خیال کے موافق جوجو حدیثیں ملیں ان کو روایت کیں (کیا) اور جو مخالف مشرب اورخیال کے پایا ان کے لینے میں توقف کیا (ص۶۱۔۶۲)
امام بخاری ؒ نے آنحضرت ﷺ کی روایت (رؤیت) کے باب میں موقوف روایتیں ذکرکیں جس سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ صدیقہ اورابن مسعود رضی اللہ عنہما نے اپنے قیاس سے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے شب معراج جبرئیل علیہ السلام کو اصلی صورت میں دیکھا اور حق تعالیٰ کو نہیں دیکھا اس وجہ سے (کہ) حق تعالیٰ فرماتا ہے {لاتدرکہ الابصار}… حالانکہ نووی رحمۃ اللہ علیہ شرح مسلم شریف میں آنحضرت ﷺکا حق تعالیٰ کودیکھنا بہ روایات صحابہ کبار ثابت کرتے ہیں (ص۶۳)چونکہ امام بخاری ؒکا اجتہاد صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد کے موافق تھا اس لیے اونہوں نے وہی روایتیں ذکر کیں (ص۶۶)
الحاصل واقع میں حدیثیں تھیں اکثر مفقود ہوگئیں وجہ اوس کی یہ ہوئی کہ بنظر (من کذب علی متعمدا)
خود صحابہ ہی روایت کرنے میں احتیاط کرتے تھے ،  پھر اوسی زمانہ کے قریب میں بہت وضّاع اور کذّاب پیدا ہوگئے اور محدثین کو اکثر احتیاط کرنی پڑی پھر احتیاط کی نوبت یہاں تک پہونچی کہ ادنی بات پر بہت سی احادیث چھوڑدی جاتی تھیں(ص۶۹)
اور سوا اس کے بعض محدثین نے بوجہ رشک اور حسد باہمی کے ایک دوسرے کے حدیثیں چھوڑدیں (ص۷۰) اور اکثر اقران میں ایساہی ہوا کرتا ہے میںنہیںجانتا کہ کوئی زمانہ ایسا گذرا ہو جس میں لوگ ایسے امورسے بچے ہوں سوائے ابنیاء وصدیقین کے اگر چاہوں تو اس کے نظائر سے کئی جزبھردوں (ص۷۰)اسی طرح بعضوں کو کسی جماعت خاص سے ایک قسم کی مخالفت ہوتی (ہے) چنانچہ مولانا عبدالحی صاحب نور اللہ مرقدہ نے ’’السعی المشکور‘‘ میں لکھا ہے ذہبی کی عادت تھی جب کبھی صوفیہ واشاعرہ کا ذکرکرتے عیوب کے ساتھ کرتے (ص۷۱)
اسی طرح امام بخاریؒ کے ذہن میں یہ بات ثابت تھی کہ جنہوںنے قول وعمل کو ایمان میں داخل نہیں کیا ان کی روایت معتبرنہیں (ص۷۳)فتح الباری میں لکھا ہے کہ محدثین نے امام بخاری ؒسے روایت کے لینے کو ترک کردیا تھا اسکا سبب یوں لکھا ہے کہ امام بخاری ؒ کا عقیدہ تھا کہ (تلفظ بالقرآن مخلوق ہے)اور محدثین اس اعتقاد والوں کو (لفظیہ )کہتے تھے جو ایک شاخ فرقہ جہمیہ کی ہے(ص۷۳)۔
امام بخاری ؒ کو ان لوگوں کے رد کرنے میں جنہوں نے (جو) آواز او رقرآن کی سیاہی اور ورقوں کو بھی غیر مخلوق کہنے لگے تھے ضرورت ہوئی کہ تلاوت اور نفس قرآن میں فرق بتلائیں حاصل یہ کہ واقع میں امام احمدبن حنبل، ذہبی وغیرہ محدثین اور امام بخاریؒمیں کوئی خلاف نہ تھا صرف قصور فہم یا اختلاف رائے کی وجہ سے دوجماعتیں قائم ہوگئیں تھیں، مسئلہ (کمی وزیادتی ایمان میں) محدثین اور ابوحنیفہ ؒ کے مابین جو کچھ اختلاف تھا ظاہری او رجو نزاع تھی لفظی ہے درحقیقت دونوں کا مطلب او رمنشا ایک ہی تھا جس کے موافقت اور تطابق کو ہم نے التبیان فی مسئلۃ الایمان میں ثابت کیا ہے (ص۷۹)اس مسئلہ میں جناب امام اعظم علیہ الرحمۃ نے غور کیا کہ محدثین او راکابر سلف کا عمل کو ایمان میں داخل کرنے سے یہ غرض تھی کہ لوگ کہیں عمل کو ترک نہ کردیں او راگر عمل جزبھی ہے تو کمال ایمان کا جزہے اصل ایمان کا جزنہیں اس لئے امام صاحب نے تصریح کردی کہ نفس ایمان تصدیق کانام اورعمل اور اس کے جزہیں قرآن وحدیث سے بھی یہی بات ثابت ہے (ص۸۰)۔
بڑی افسوس اور سمجھنے کی بات ہے کہ اس زمانہ میں بعض مقلدین ائمہ حدیث کی شان میں اور غیر مقلدین فقہاے سلف کی نسبت جو بیباکانہ بے ادبانہ گستاخیاں کرتے ہیں مسلمانوں کی منصفانہ شان سے بعید ہے۔
الحاصل … یہ اسباب ہوئے جس کی وجہ سے تمام احادیث مصنفین (محدثین؟) تک نہ پہونچ سکیں اور موضوع ہونے کا ایک یہ بھی قرینہ ہے کہ نقاد حدیث کے نزدیک وہ حدیث نہ پائی جائے ، مگر یہ بھی قطعی قرینہ نہیں اس لئے کہ کسی کا روایت نہ کرنا تو جب معلوم ہو کہ تمام دنیا کے علماء کا علم او رجمیع کتب احادیث کاحفظ ازبر ہواور یہ ممکن نہیں چنانچہ ابن تیمیہؒ نے رفع الملام میں لکھا ہے وامااحاطۃ واحدٍ بجمیع حدیث رسول اللہ ﷺ فھذا لا یمکن ادعاؤہ(ص۸۶۔۸۷)
اور ایک وہ قرینہ ہے جس کو ابن جوزیؒ نے پسندکیا ہے …یعنی حدیث منکر سننے سے اکثر طالب کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں او ردل میں ایک قسم کی نفرت پیدا ہوجاتی ہے (ص۸۷)یہ بھی کوئی قطعی قرینہ نہیں ہوسکتا (ص۹۴)
کبھی ایسا بھی ہو تا ہے کہ راوی کے نام میں دھوکا ہوجانے سے حدیث موضوع سمجھی جاتی ہے (ص۹۶)
اب یہ بات معلوم کرنا چاہیے کہ باوجود قرائن مذکورہ ہونے کے جب محدثین کسی حدیث کو موضوع کہتے ہیں تو اس سے مطلب یہ ہے کہ اسناد اس کے موضوع ہیں متن حدیث میں کلام نہیں اسی وجہ سے اگر کوئی قرینہ وضع الفاظ یا معانی حدیث سے متعلق پایاجاتا ہے تو بھی میں بیان علت کے وقت کسی راوی کی طرف اس کی خرابی منسوب کردیتے ہیں ۔غرض باوجود حکم موضوعیت کے نفس حدیث اس حکم سے خارج ر ہتی ہے (ص۹۸۔۹۹)غرض محدثین جس حدیث کو موضوع کہتے ہیں تو یہ کہنا بحسب قرائن ہوتا ہے  اور جب کوئی قرینہ قطعی نہیں تو حکم بھی قطعی نہ ہوگا جو صرف اسناد سے متعلق ہے پھر متن حدیث موضوعیت سے کیسی (کیسے) متہم ہوسکتی ہے (ص۱۰۰)۔
جس صورت میں کہ متن حدیث میں صحت اور وضع کے احتمال دونوں باہم معارض ہوں تو دیکھا جائے کہ جس نے اس حدیث کی تخریج کی ہے محدث ہے یا نہیں اگر محدثین کی تصریح سے مسلم ہوجائے کہ وہ محدث ہے تو یہ صحیح حدیث جو مسلم شریف میں ہے ضرور مان لی جائے گی ۔ عن سمرۃ رضی اللہ عنہ قال رسول اللہ ﷺ من حدث عنی بحدیث یریٰ انہ کذب فھو احد الکاذبین …عمدۃ القاری شرح بخاری  میں عینیؒ نے لکھا ہے کہ اگر کسی حدیث کے موضوع ہونے کاگمان ہوا پھر اس کو کوئی روایت کرے تو وہ راوی اس وعید میں داخل ہوگا اور دوزخ کا مستحق ہے (ص ۱۰۱)
جب کوئی حدیث جس کو کسی نے موضوع کہا ہواور اس کو کوئی محدث بغیر تصریح کردینے موضوعیت کے اپنی کتاب میں نقل کیا تو یقینا یہ بات سمجھی جائے کی کہ گواس کی اسناد میں کلام تھا مگر (متن حدیث اس کے پاس مسلم ہے) ورنہ بمصداق حدیث مذکورہ کے اس محدث کا کاذب بلکہ دوزخی ہونا لازم آتا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ متن حدیث موضوع جسمیں وضع اور صحت دونوں کا احتمال تھا اس محدث نے (کے) روایت کرنے کی وجہ سے اس متن کی صحت کو ترجیح ہوجائے گی اوراسی ترجیح کا نام ظن ہے مگر چونکہ مدارج ظن کے متفاوت ہیں اس لئے قوت اس ظن کو ویسی نہ ہوگی جیسی حدیث بخاری سے ہوتی ہیں باایں ہمہ اصل ظن میں دونوںبرابر ہیں اسلئے کہ حدیث بخاری بھی مفید علم یقینی کی نہیں کیونکہ مفید علم یقینی صرف حدیث متواتر ہوتی ہے اورحدیث مشہور جو احادیث بخاری سے کئی درجہ ارفع ہے وہ بھی مفید علم یقین کی نہیںہوسکتی (ص۱۰۲)
اس میں کچھ شک نہیں کہ جس نے حدیث موضوع ہی کے اسناد کو بحسن ظن قبول کرکے عمل کیا تووہ مستحق اسی ثواب کا ہوجاتا ہے جو بوقت عمل اس کے پیش نظر ہے(ص۱۰۴)
یہ بات متحقق ہے کہ (احادیث احکام وعقائد)میںکمال احتیاط ہونا چاہیے اس لئے کہ فضائل میں نسخ اور تعارض نہیں کسی اچھے فعل کاکرنا خواہ قسم عبادت ہو یا حسن اخلاق وغیرہ سے ہو عامل کو مقصود اور مطلوب ہوتا ہے …اگر عمل نہ کرکے بیجا ایرادیں نکالیں ؍اور تحقیق کریں کہ وہ وعدہ کسی کے ذریعہ سے پہنچا تھا اور پہنچانے والا معتبرتھا یا نہیں سوا حرمان کے اورکیا ہوسکتا ہے بخلاف احکام کے کہ اسمیں بحسب مصلحت شرع نسخ او رتغیرو تبدل ہوتے ہیں اور احکام میں بھی آخری حکم کا اعتبار ہوتاہے (ص۱۱۰۔۱۱۱)
تجزیہ:
علماء کا اتفاق ہے کہ علم حدیث میں توثیق وتصحیح  وتحسین ہوں یا تضعیف وتعلیل وتزیف یہ اجتہادی امور ہیں جن کی بنیاد ’’غلبہ ظن ‘‘ہے بعض لوگوں نے بوجوہ اس’’غلبہ ظن ‘‘ کو ’’قطعیت‘‘ کے درجہ تک پہونچا دیا اور علامات وقرائن وضعیت وضعف وصحت کو یقینی سمجھنے لگے یا یقینی ہونے کا تاثر دینے لگے حافظ صاحب علیہ الرحمۃ (امام انواراللہ فاروقیؒ) کے پیش نظریہ امر تھا کے کیا بعض محدثین کے بعض احادیث کو موضوع یا صحیح قراردینے سے وہ احادیث ’’بالقطع‘‘ موضوع یا صحیح سمجھی جائیں گی ؟ یہی اس رسالہ کا مرکزی موضوع معلوم ہوتا ہے ۔
رسالہ کے مضامین وترتیب الہامی شان رکھتے ہیں اگرچہ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ کے پیش نظر حدیث ، اصول حدیث ، شروح حدیث ، کتب ثقات ، کتب جرح وتعدیل ، عقائد، سیرت ، فقہ وقواعدفقہ ، کتب اعلام ، کتب موضوعات وغیرھا میں تقریباً ساٹھ اہم کتابیں رہی ہیں درج ذیل فہرست سے حافظ صاحب علیہ الرحمۃ کے تبحر اور وسعت اطلاع کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے 
حدیث :
صحیح للبخاریؒ ، صحیح لمسلم ؒ ، جامع للترمذیؒ ، مشکوۃ للتبریزی ؒ ، ترغیب وترھیب للمنذریؒ،کنزالعمال للمتقیؒ ، الجوھرالنقی للماردینیؒ۔
اصول حدیث:
معرفۃ انواع علوم الحدیث (مقدمہ علوم الحدیث )لابن الصلاحؒ ، نخبۃ الفکراو رالنکت علی مقدمہ ابن الصلاح کلاھما للعسقلانی ؒ، تدریب الراوی للسیوطیؒ ، جواھرالاصول للفاسیؒ ، فتح المغیث للسخاویؒ ، الجامع للخطیب البغدادیؒ ،ظفرالامانی لعبدالحی اللکنویؒ۔
 شروح الحدیث: 
فتح الباری للعسقلانی ؒ ، عمدۃ القاری للعینیؒ ، ارشاد الساری للقسطلانیؒ افتتاح القاری لمحمدبن اویلؒ 
ثقات :
تذکرۃ الحفاظ للذھبی ؒ ، طبقات الحفاظ للسیوطی ؒ تقریب التہذیب للعسقلانیؒ، خلاصۃ التہذیب لصفی الدین (الخزرجیؒ)
جرح وتعدیل :
میزان الاعتدال للذھبی ؒ ، لسان المیزان للعسقلانیؒ ، الرفع التکمیل لعبدالحی الکنویؒ 
اعلام: 
وفیات الاعیان لابن خلکان ؒ ،خلاصۃ الاثر لمحمدبن فضل اللہ ؒ ، الکواکب الزاھرۃ لابی الفضل عبدالقادر ؒ
موضوع احادیث:
الموضوعات الکبری اور العلل المتناھیہ کلاھما لابن الجوزی ؒ، المتعقبات (علی الموضوعات)للسیوطی ؒ الاثار المرفوعۃ لعبدالحی الکنویؒ
متفرق رسائل:
رفع الملام لابن تیمیہ ، شفاء السقام للسبکیؒ ، القول البدیع للسخاویؒ ،  القول المسددلعسقلانیؒ، کتاب العلوللذھبیؒ ، سبیل النجاۃ اور قمع العارض فی نصرۃ ابن الفارض ؒ کلاھما للسیوطیؒ، الزواجر اور الجواھر المنظم فی زیادۃ القبرالشریف النبوی المکرم کلاھما لابن حجرالھیثمیؒ، …السعی المشکور لعبدالحی الکنویؒ ۔
مراجع کی کثرت کے باوجود نہ کسی جگہ علم کی نمائش کا غبار ہے نہ تکلف وتصنع کی گرد ، مضامین میںبجائے اورد کے آمد کی شان ہے اورتحریر میںبے ربطی وبے ترتیبی کا کوئی نشان نہیں ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشآء
تصحیفات:
یہ رسالہ علمی وتحقیقی بلکہ استنادی حیثیت سے اس کا متقاضی تھا کہ اغلاط کتابت وطباعت سے پاک رہے لیکن ایسانہیں ہوسکا چنانچہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ اہل مطبع کو اغلاط نامہ لگانے کی ضرورت محسوس ہوئی جس میں تیرہ (۱۳)اغلاط ہائے کتابت کی نشاندہی وتصحیح کی گئی ان کے علاوہ دیگر تصحیفات توجہ چاہتی ہیں ۔(تلخیص مقالۂ ہذا)
ژژژ
error: Content is protected !!