Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

سودکی مذمت پرنازل شدہ آیت کی وضاحت

(۱) اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :
اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕوَاَمْرُہٗۤ اِلَی اللہِ ؕ وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿275﴾یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ ؕ وَاللہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیۡمٍ ﴿276﴾
ترجمۂ کنز الايمان:وہ جو سود کھاتے ہيں قيامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جيسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسيب نے چھو کر مخبوط بنا ديا ہويہ اس لئے کہ انہوں نے کہا بيع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کيا بيع کو اور حرام کيا سود تو جسے اس کے رب کے پاس سے نصيحت آئی اور وہ باز رہا تو اسے حلال ہے جو پہلے لے چکا اور اس کاکام خدا کے سپرد ہے اور جو اب ايسی حرکت کریگا تو وہ دوزخی ہے وہ اس ميں مدتوں رہيں گے اللہ ہلاک کرتا ہے سود کو اور بڑھاتا ہے خيرات کو اور اللہ کو پسند نہيں آتا کو ئی ناشکرا بڑا گنہگار۔(پ3، البقرۃ:275۔276)

وضاحت:

اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    یعنی سود خور اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کرمجنون بنادیا ہو،پس جب اللہ عزوجل قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا تو تمام لوگ اپنی قبروں سے جلدی جلدی نکلیں گے سوائے سودخوروں کے،وہ جب بھی کھڑے ہوں گے تواپنے مونہوں،پیٹھوں اورپہلوؤں کے بل گر پڑیں گے جیسے کوئی پاگل و دیوانہ شخص ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دنیا میں مکر وفریب اورخداو رسول عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے مخالفت مول لے کر حرام و سود سے پیٹ بھرتے رہے تو وہ ان کے پیٹوں میں بڑھتا رہا اور اس وقت اس قدر زیادہ ہو چکا ہو گا کہ اس کے بوجھ سے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے بھی قابل نہ رہيں گے،پس جب بھی لوگوں کے ساتھ مل کر تیزی سے چلنا چاہیں گے تو اوندھے منہ گر پڑیں گے اور دوبارہ پیچھے رہ جائیں گے۔
    یہ بھی ایک مُسلَّمہ بات ہے کہ جب بھی وہ گریں گے تو ایک آگ انہیں میدانِ محشر کی جانب ہانکے گی اور اس طرح بھی ان کے عذاب میں مزید اضافہ ہو گا، اس طرح اللہ عزوجل ان پر دو بہت بڑے عذاب مسلّط فرما دے گا یعنی ایک عذاب تو ان کا چلنے میں بار بار گرنا اور دوسراآگ کی تپش اور لپٹوں کا ان کوہنکانایہاں تک کہ وہ میدانِ محشرمیں پہنچیں گے تو اپنی لڑکھڑاہٹ اور جنونی کیفیت کی بناء پر وہاں موجود تمام افراد کے درمیان (سود خور ہونے کی حیثیت سے) پہچانے جائیں گے، جیسا کہ،
(1)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :”سود خور کو قیامت کے دن جنون کی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ اس کے سود کھانے کے بارے میں سب اہلِ محشر جان لیں گے۔”
   (کتاب الکبائرللذہبی،الکبیرۃ الثانیۃ عشرۃ،باب الریاء،ص۶۸)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدناابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب مجھے آسمان کی طرف لے جايا گيا تو ميں نے آسمانِ دنيا کی طرف ديکھا، اچانک مجھے ايسے لوگ دکھائی دیئے جن کے پيٹ بڑے بڑے گھروں کی طرح تھے اور ان کی توندیں لٹکی ہوئی تھيں، وہ ان فرعونيوں کی گزرگاہ پر پڑے ہوئے تھے جوصبح وشام آگ پر پيش کئے جاتے ہيں۔”مزیدارشاد فرمایا:”وہ مطیع اونٹوں کی طرح بغيرسُنے سمجھے آگے بڑھے تو یہ (بڑے)پیٹوں والے ان کو محسوس کر کے کھڑے ہوئے لیکن اپنے پیٹوں کی وجہ سے دوبارہ گرگئے اور وہاں سے نہ اُٹھ پائے یہاں تک کہ آلِ فرعون ان پر چھا گئے اور اوندھے، سیدھے پڑے ہوئے ان لوگوں کواذیت دیتے ہوئے (جہنم میں) چلے گئے، یہ تو سودخوروں کا برزخ میں عذاب ہے جو دنیاو آخرت کے درمیان ہے۔”شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں،میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے دریافت فرمایا:”یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا:”یہ وہ لوگ ہیں جو سود کھاتے ہيں قيامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جيسے کھڑ اہوتا ہے وہ جسے آسيب نے چھو کر مخبوط(یعنی پاگل) بنا ديا ہو۔”
(الترغیب والترہیب،کتاب البیوع،باب ، الترہیب من الربا،الحدیث:۲۸۹۱،ج۲،ص۴۰۷،بدون”فیقبلون”الیٰ ”مدبرین”)
(3)ایک اور روایت میں ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں نے ساتویں آسمان پر اپنے سر کے اوپر بادلوں کی سی گرج اور بجلی کی سی کڑک سنی اور ایسے لوگ دیکھے جن کے پیٹ گھروں کی طرح(بڑے بڑے)تھے اُن میں سانپ اور بچھوباہرسے نظرآرہے تھے،میں نے پوچھا:”اے جبرائیل!یہ کون ہیں؟”توانہوں نے بتایا:”یہ سود خور ہیں۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مجمع الزوائد،کتاب البیوع ، باب ماجاء فی الربا ، الحدیث: ۶۵۷۷، ج۴ ، ص ۲۱۱،بتغیرٍ)
    ان دونوں احادیثِ مبارکہ کا اس حدیثِ پاک کے ساتھ ہی تذکرہ آگے بھی ہو گا ۔
(4)۔۔۔۔۔۔رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ عالیشان ہے:”ان گناہوں سے بچو جن کی مغفرت نہیں ہوگی:(۱)دھوکادہی،پس جس نے کسی شئے سے دھوکا دیا تو قیامت کے دن وہ چیز لائی جائے گی اور(۲)سود خوری،پس جس نے بھی سود کھایا اسے قیامت کے دن جنون کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔” پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مذکورہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی۔”         ( المعجم الکبیر ، الحدیث: ۱۱۰، ج۱۸ ، ص ۶۰)
(5)۔۔۔۔۔۔خاتَمُ الْمُرْسَلِین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمَین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”سود خور قیامت کے دن جنون کی حالت میں اپنی دونوں سرينوں کوگھسیٹتے ہوئے آئے گا۔”پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مذکورہ آیتِ کریمہ تلاوت فرمائی۔”
( الترغیب والترھیب ،کتاب البیوع ، باب الترھیب من الربا ،الحدیث: ۲۸۹۴ ، ج۲ ، ص ۴۰۸)
    کتاب الصلوٰۃکی ابتداء میں ایک حدیثِ پاک گزری تھی کہ”سود خور کو مرنے سے لے کر قیامت تک اس عذاب میں مبتلا رکھا جائے گا کہ وہ خون کی طرح سرخ نہر میں تیرتا رہے گا اور پتھرکھاتا رہے گا، جب بھی اس کے منہ میں پتھر ڈال دیا جائے گا تو وہ پھر نہرمیں تیرنے لگے گا پھرواپس آئے گا اورپتھر کھا کر لوٹ جائے گا یہاں تک کہ دوبارہ زندگی ملنے تک اسی طرح رہے گا۔ وہ پتھر اس حرام مال کی مثال ہے جو اس نے دنیا میں جمع کیا ،پس وہ اس آگ کے پتھر کو نگلتا رہے گا اور عذاب میں مبتلا رہے گا، اس کے علاوہ بھی عذاب کی کئی انواع اس کے لئے تیار کی گئی ہیں جن کا تذکرہ عنقریب ہو گا۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰوا ۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا ؕ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ان کے اس شدید عذاب کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سودکوبیع کی طرح حلال جانا اور اس غلط اعتقاد کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح وہ کوئی چیز10درہم میں خرید کر11درہم میں فروخت کرتے ہیں خواہ ادھار دیں یانقد،اس طرح 10 درہم کی 11درہم کے عوض ادھاریانقد بیع بھی جائز ہی ہو گی کیونکہ عقلاً جب جانبین راضی ہوں تو ان دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن وہ اس بات سے غافل ہو گئے کہ اللہ عزوجل نے ہمارے لئے کچھ حدود مقرر فرما رکھی ہیں اور ہمیں ان سے تجاوز کرنے سے منع فرمایا ہے،پس ہم پر لازم ہے کہ ہم ان حدود کی پاسداری کریں اورانہیں اپنی رائے اور عقل کے ترازو میں نہ پَرکھیں(يعنی نہ توليں )،بلکہ ان کو ہر صورت میں قبول کر لیں خواہ ہماری عقل میں آئيں یا نہ آئيں،اور ہمارے لئے مناسب ہوں یا نہ ہوں، کیونکہ یہی عبودیت وبندگی کا مرتبہ اور شان ہے۔
    کمزور وناتواں،اور فہم و فراست سے قاصر بندے پر لازم ہے کہ اپنے قادر و قوی، علیم و حکیم، رحمن و رحیم اور جبار و عزیز مولیٰ کے احکام کے سامنے سرِتسلیم خم کر دے، کیونکہ جب بھی اس نے اپنی عقل کے مطابق فیصلہ کیا اور اپنے مالک کے حکم سے روگردانی کی تو اس (مالک الملک )نے اپنے شدید عذاب سے اس کو ہلاکت و بربادی کے عمیق گڑھے میں پھینک دیا ۔چنانچہ،
(۱)اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے :
اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیۡدٌ ﴿ؕ12﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تیرے رب کی گرفت بہت سخت ہے ۔ (پ30، البروج:12)
(2) اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ ﴿ؕ14﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تمہارے رب کی نظر سے کچھ غائب نہیں۔(پ30، الفجر:14)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

فَمَنۡ جَآءَہٗ مَوْعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ فَانۡتَہٰی فَلَہٗ مَا سَلَفَ ؕوَاَمْرُہٗۤ اِلَی اللہِ ؕ
    یعنی جس کے پاس اس کے رب عزوجل کی کوئی نصیحت آئے اور اس کے بعد فوراًسود لینے سے باز آ جائے توحرمت کا حکم نازل ہونے سے قبل جو اس نے سود لیا تھا وہ اس کے لئے جائز ہو گا کیونکہ اس وقت وہ اس حکم کا مکلَّف نہیں تھا جبکہ آیتِ حرمت کے نزول کے بعد اس کو لینا جائز نہیں، پس جس نے توبہ کر لی اس پر لازم ہے کہ وہ لیاہوا تمام سودواپس کر دے، اگرچہ یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ اسے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ سے دوری کی وجہ سے سود کے حرام ہونے کا علم نہ ہو سکا تھا تب بھی اس پر لازم ہے کہ لیاہواتمام سودواپس کر دے کیونکہ اُس نے یہ سود اُس وقت لیاتھاجب وہ اس حکم کا مکلَّف تھا اور ناواقفیت کا عذر اس کے گناہ گار ہونے میں اگرچہ مؤثر نہ بھی ہو لیکن مالی حقوق میں وہ ضرور مؤثر ہوتا ہے۔ اور باقی رہا اس کے گذشتہ سود کا معاملہ تو وہ اللہ عزوجل کے سپرد ہے، یا پھر سود سے باز آجانے کایا سود کے قابلِ معافی یا ناقابلِ معافی ہونے کا معاملہ اللہ عزوجل کے سپرد ہے، اس کی توجیہات کے بارے میں مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی کئی ایک آراء ہیں، 
    حضرتِ سیدناامام فخرالدین رازی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”جس صورت کو میں نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ حکم(وَاَمْرُہۤ، اِلَی اللہِ) اس شخص کے ساتھ خاص ہے جو سودکے کھانے یانہ کھانے کی وضاحت کئے بغیراسے حلال نہ سمجھے۔” وَمَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمْ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿275﴾
    یعنی اگر وہ اپنے اسی سابقہ قول” یعنی بیع بھی تو سود کی طرح ہے۔ ”کی جانب لوٹا، لیکن سود کو حلال نہ خیال کیا بلکہ حرام ہی جانا تو اب اس کی دو صورتیں ہوں گی:(۱)وہ سود کھانے سے بھی رک جائے گا حالانکہ یہاں یہ مراد نہیں کیونکہ ”وَاَمْرُہ، اِلَی اللہِ”کافرمان اس کے لائق نہیں، بلکہ اس کے لائق محض مدح وتعریف ہے اور(۲)اگرسودکھانے سے توبازنہ آئے لیکن اسے حرام ضرور جانے تو یہاں اس آیۂ مبارکہ سے یہی مراد ہے کیونکہ اب اس کا معاملہ اللہ عزوجل کے سپرد ہے اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو معاف فرما دے، جیساکہ اس کا فرمانِ عالیشان بھی ہے:
وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

ترجمۂ کنزالایمان:اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔(پ4، النساء:48)
یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا
    یعنی اللہ عزوجل سود خوروں کے معاملے کو ان کے مقصود کے برعکس ملیامیٹ کر دے گا، چونکہ انہوں نے اللہ عزوجل کی ناراضگی اور غضب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مال کی زیادتی کوترجیح دی پس وہ نہ صرف اس زیادتی بلکہ اصل مال کو بھی ختم کردے گا یہاں تک کہ ان کا انجام انتہائی فقر ہو جائے گا ،جیسا کہ اکثر سود خوروں کا مشاہدہ بھی کیا گیا ہے، اگر فرض کر لیں کہ وہ اسی دھوکا میں مبتلا ہوکر اس دارِ فانی سے چل بسا تو اللہ عزوجل اس کے وارثوں کے ہاتھوں اس کا مال تباہ و برباد کر دے گاپس تھوڑی ہی مدت کے بعد انتہائی فقر اور ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن جائے گی۔
error: Content is protected !!