Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

قیامت میں مصیبت زدہ لوگو ں کا اجروثواب:

(57)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”عافيت میں رہنے والے لوگ جب مصيبت زدہ لوگوں کا اجر ديکھيں گے تو تمنا کريں گے کہ کاش !(دنیامیں)ان کی کھال کو قينچيوں سے کاٹ ديا جاتا۔”
( جامع الترمذی ،ابواب الزھد ، باب ۵۸ یوم القیامۃ وندامۃ المحسن ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۲۴۰۲ ، ص ۱۸۹۳)
(58)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”قيامت کے دن شہيد کو لا کرحساب کے لئے کھڑا کیاجائے گا، پھر صدقہ کرنے والے کو لايا جائے گا اور حساب کے لئے روک ليا جائے گا، پھر مصیبت زدوں کولایاجائے گاتو ان کے لئے نہ ميزان نصب کی جائے گی،اور نہ ہی اعمال نامے کھولے جائيں گے بلکہ ان پربہت زیادہ اجر نچھاور کیاجائے گا يہاں تک کہ عافيت میں رہنے والے اللہ عزوجل کی طرف سے عطا کردہ ثواب ديکھ کر میدانِ حشر ميں اس بات کی تمنا کريں گے کہ کاش! (دنیامیں) ان کے جسموں کو قينچيوں سے کاٹ ديا جاتا۔” (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۲۸۲۹،ج۱۲،ص۱۴۱)
(59)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دلوں کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے مصيبت وبلامیں مبتلافرما ديتا ہے۔”
(صحیح البخاری،کتاب المرضی،باب ماجاء فی کفارۃ المرض،الحدیث:۵۶۴۵،ص۴۸۳)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(60)۔۔۔۔۔۔تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب اللہ عزوجل کسی قوم سے محبت فرماتا ہے تو اسے آزمائش ميں مبتلا فرما ديتا ہے، پھر جو صبر کرتا ہے اس کے لئے صبر ہے اور جو جزع فزع کرتا ہے اس کے لئے جزع ہی ہے۔”
      (المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث: ۲۳۶۹۵،ج ۹، ص۱۶۱)
 (61)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل کے نزديک بندے کا ایک مرتبہ ہوتا ہے جب وہ کسی عمل کے ذريعے اس تک نہ پہنچ سکے تو اللہ عزوجل اسے ایسے حالات سے دوچار کر دیتا ہے جو اسے پسند نہیں ہوتے يہاں تک کہ وہ اس درجے تک پہنچ جاتا ہے۔”
 ( صحیح ابن حبان ،کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی الصبر وثواب الامراض ، الحدیث: ۲۸۹۷ ، ج۴ ، ص ۲۴۸)
 (62)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جب بندے کا اللہ عزوجل کے ہاں کوئی مرتبہ مقرر ہو اور وہ اس مرتبے تک کسی عمل سے نہ پہنچ سکے تو اللہ عزوجل اسے جسم، مال يا اولاد کی آزمائش ميں مبتلا فرماتا ہے پھر اسے ان تکاليف پر صبر کی توفيق عطافرماتاہے يہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل کے ہاں اپنے مقرردرجے تک پہنچ جاتا ہے۔”
 ( سنن ابی داؤد ،کتاب الجنائز ، باب الامراض المکفرۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۳۰۹۰، ص ۱۴۵۶)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

 (63)۔۔۔۔۔۔سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”اللہ عزوجل تمہيں آزمائش کے ذريعے اس طرح پرکھتا ہے جس طرح تم ميں سے کوئی اپنے سونے کو آگ پر پرکھتا ہے، لہٰذااس سے نکلنے والے کچھ لوگ سفيد چمک دار سونے کی طرح ہوتے ہيں، يہ وہ لوگ ہيں جنہيں اللہ عزوجل شبہات سے بچاتا ہے اور اس سے نکلنے والے کچھ لوگ ان سے کم تر ہوتے ہيں، يہ وہ ہيں جو کچھ شک وشبہ ميں مبتلا ہوتے ہيں اور اس سے نکلنے والے کچھ لوگ سياہ سونے کی طرح ہوتے ہيں، يہ وہ لوگ ہيں جو آزمائش ميں مبتلا ہيں۔”       ( المعجم الکبیر، الحدیث: ۷۶۹۸، ج۸، ص ۱۶۶)
error: Content is protected !!