Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

وہ برتن جن کے استعمال کی رخصت ہے:

    اِنَآءٌ(یعنی برتن) سے مراد ہر وہ چيز ہے جو عرف ميں اس کام میں استعمال ہو جس کے لئے اسے بنایا گیا ہو، لہذا اس ميں سرمہ ڈالنے والی سلائی، سرمہ دانی، خلال کرنے اورکان سے ميل نکالنے والی سلائی وغيرہ بھی شامل ہے، البتہ اگر کسی کی آنکھ ميں تکليف ہو اور اسے عادل طبيب کہے کہ سونے يا چاندی کی سلائی سے سرمہ ڈالنا اس تکليف کے لئے مفيد ہے تو اس کے لئے ضرورت کی بناء پر اسے استعمال کرنا جائزہے۔
     استعمال کی حرمت کے لئے برتن کا خالص سونے يا چاندی کا ہونا ضروری نہيں بلکہ اگر تانبے کے برتن پر سونے يا چاندی کا پانی اس طرح چڑھايا جائے کہ وہ اس کو چھپا دے، لیکن جب اسے آگ پر رکھا جائے تب اس کا اثر ظاہر ہو تو اس کا استعمال بھی حرام ہے،۱؎
کيونکہ اس صورت ميں وہ سونے چاندی کے برتنوں کے قائم مقام ہو گا۔ 
    اس کے حرام ہونے کی علت سونا، چاندی اور غرور و تکبر ہے، اسی لئے اگر سونے کے برتن پر تانبے کا پانی چڑھايا جائے يہاں تک کہ وہ تانبا اس پورے برتن کو گھير لے تو اس کا استعمال جائز ہے، اگرچہ آگ پر رکھنے سے اس کا اثر ظاہر نہ ہو جيسا کہ اگر سونے کے برتن کو زنگ لگ گيا اور زنگ نے پورے برتن کو گھير ليا تو اس کااستعمال جائز ہے۔کيونکہ اس صورت ميں ايک علت نہ پائی گئی اور وہ غرور وتکبرہے۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قيمتی و نفيس برتنوں کا استعمال جائز ہے مثلاً ياقوت اور موتيوں کے برتن کيونکہ ان ميں سونا چاندی نہيں اور اس ميں تکبر کی وجود پر نظر نہيں کی جائے گی کیونکہ حرمت کے لئے صرف تکبر کافی نہيں، اس لئے کہ ياقوت اور موتيوں کی پہچان صرف خواص کو ہوتی ہے، لہٰذا ان کے استعمال سے فقراء کی دل شکنی کا بھی انديشہ نہيں کيونکہ جب وہ ايسے برتنوں کو ديکھتے ہيں تو ان کی غالب اکثريت انہيں پہچان نہيں پاتی جبکہ سونے اور چاندی کے برتن کسی سے مخفی نہیں ہوتے لہٰذا اگر ان کا استعمال جائز ہوتا تو يہ ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا۔

تنبیہ3:

    گذشتہ اشياء کی حرمت کے معاملے ميں مرد و عورت اور ديگر مُکلَّفين و غيرمُکلَّفين (یعنی مسلمان ،کفار اور نابالغ) ميں کوئی فرق 
نہيں یہاں تک کہ عورت پر اپنے بچے کو چاندی کی نسوار کی ڈبيا ميں پانی پلانا بھی حرام ہے اورچاندی کاچھوٹا شگوفہ عرفاً زينت کی وجہ سے بیان کردہ اشياء کے استعمال کی حرمت سے خارج ہے پس يہ کراہت کے ساتھ جائز ہے، کيونکہ نبی اکرم، نورِ مجسَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے برتن پر شگوفہ ہوتا تھا۔


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

     شگوفہ اس چيز کو کہتے ہيں جس کے ذريعے برتن کے سوراخ بند کئے جاتے ہيں جيسے وہ دھاگا جس کے ذريعے اس کا ٹوٹا ہوا حصہ باندھا جاتا ہے پھر اسے زينت کے لئے استعمال کيا جانے لگا اسی طرح شگوفے کا استعمال ضرورتاً جائز ہے ليکن اگر يہ بڑا 
ہو تو مکروہ ہے۔
    ميزاب رحمت سے گرنے والا پانی منہ يا ہاتھ پر مل کر استعمال کرناحرام نہيں کيونکہ عرف ميں اس پانی کے ایسے استعمال کوحرام شمار نہيں کيا جاتا، نہ ہی سونے چاندی سے مزين ايسی چھت کے نيچے بيٹھنا حرام ہے جس سے سونا يا چاندی ظاہر نہ ہوتا ہو۔۱؎
2؎ :احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک: ”ٹو ٹے ہوئے برتن کو سونے يا چاندی کے تار سے جوڑنا جائزہے جبکہ اس جگہ سے استعمال نہ کيا جائے۔”
 (بہار شريعت،ج۲،حصہ ۱۶،ص۳۵)
2؎: احناف رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزديک: ”مکان کو ريشم،چاندی اورسونے سے آراستہ کرنامثلاً ديواروں، دروازوں پر ريشمی پردے لٹکانا اور جگہ جگہ قرينہ سے سونے چاندی کے ظروف وآلات رکھنا جس سے مقصود محض نمائش و آرائش ہو تو کراہت ہے اور اگر تکبُّر وتفاخر سے ايسا کرتا ہے تو ناجائز ہے غالباً کراہت کی وجہ يہ ہو گی کہ ايسی چيزيں اگرچہ ابتداءًتکبرسے نہ ہوں مگربالآخران سے تکبرپيداہوجاياکرتاہے۔”  (بہارشريعت،ج۲،حصہ ۱۶،ص۴۳)
error: Content is protected !!