Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

نیک جِنّ

نیک جِنّ

حضرت سیدنا عبداللہ بن محمد قرشی علیہ رحمۃاللہ القوی کہتے ہیں، مجھے میرے والد نے بتایا کہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم جمعہ کے دن جب خطبہ ارشاد فرماتے تو اکثر یہ کہا کرتے :” اے لوگو ! نیکی کے کاموں کو لازم پکڑو اور جِن ّکے فعل کو یاد کرو ۔
ایک مرتبہ ابوالاشتررحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے کہا :” آؤ! امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کی خدمت چلیں اوران سے اس جن کے بارے میں سوال کریں جس کے متعلق انہوں نے حکم دیا ہے اور جس کا وہ اکثر تذکرہ کرتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ میں اور ابو اشتر رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت المال میں تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”تمہارا اس وقت میرے پاس آنا کتنا عجیب ہے ؟ ہم نے عرض کی ۔ اے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایاتھاکہ” نیکی کے کاموں کو لازم پکڑو اور جِن ّکے فعل کو یاد کرو ۔حضور ہمیں یہ بتائیے کہ وہ جن کون ہے؟۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:”کیا

تم نہیں جانتے کہ وہ جن کون ہے ؟ ہم نے عرض کی:” نہیں” آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :” وہ تم میں تھا ۔ ہم نے عرض کی وہ کون تھا؟ ”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا :” مالک بن خزیم ہمدانی اپنے چند دوستوں کے ساتہ حج کے ارادے سے روانہ ہوا ، دوران سفر جب وہ کسی مقام پر پہنچا تو اس نے اپنے دوستوں سے کہا:یہاں ٹھہرجاؤ! تم پانی کے حصول پر قادر ہوگئے ہو ۔ چنانچہ انہوں نے وہیں قیام کیا اور سو گئے رات کے آخری پہر جب چاند طلوع ہوا تو پہاڑ سے ایک اژدہا بڑی تیزی کے ساتھ رینگتا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ اور اہل قافلہ کے گرد چکرلگایا، اہل قافلہ میں سے ایک نوجوان اس اژدہے کو دیکھ رہا تھا ۔ اژدہا جب چکر لگا کر ایک ضعیف شخص کے پاس پہنچا ،تو اس نوجوان کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں یہ اس بزرگ کوڈ س نہ لے، چنانچہ اس نے قریب ہی پڑا ہوا ڈنڈا اٹھایا اور اس پر حملہ کردیا۔ مگر نشانہ خطا ہوگیا ۔وہ بزرگ بھی جاگ گئے اور خوفزدہو کر کہنے لگے :”کیا ہے؟” یہ اژدہاکہا ں سے نمودار ہوگیا ؟پھر اس نے قافلے والوں سے کہا: سوجاؤ ! تم نے پانی کے حصول پر قدرت حاصل کرلی ہے ۔وہ سوگئے اور پھر طلوعِ آفتا ب سے پہلے ان کی آنکھ نہ کھل سکی۔
طلوع آفتاب کے وقت وہ اٹھ کھڑے ہوئے او ران میں سے ہر شخص نے اپنی سواری کی لگا م پکڑی او رپانی کی تلاش میں نکل پڑے مگر وہ راستہ بھول گئے تھے ۔ جب اژدہے نے انہیں دیکھا تو پہاڑ پر سے بولا:” اے لوگو ! تمہارے سامنے اس وقت تک پانی نہیں آسکتا، جب تک تم آج کے دن ان تھکے ہوئے سواری کے جانوروں کی اچھی طر ح دیکھ بھال نہ کر لو۔ پھر جب ایسا کرلو تو دیکھنا کہ سامنے ٹیلے کے پیچھے پانی کا ایک چشمہ ہے ۔”
چنانچہ وہ رکے رہے ۔پھرمطلوبہ جگہ پہنچے توو ہاں واقعی ایک چشمہ تھاجس کا پانی رکا ہوا تھا ۔ انہوں خود بھی پانی پیا ، اپنے جانوروں کو بھی پلایا، اور قافلہ دوبار ہ سوئے منزل چل دیا ۔ جب وہ ایک چھوٹی سی پہاڑی کے قریب پہنچے توکہنے لگے: اے ابو حزیم ! اگر اسی طر ح کا پانی یہاں بھی مل جائے تو کتنی بڑی خوش بختی ہے ۔ پھر وہ پہاڑی کے قریب ٹھہرگئے اور پانی کی میں تلاش نکلے اس مرتبہ پھر راستہ بھول گئے ۔ جب پہاڑی پر موجوداژدہے نے انہیں دیکھا تو پکار کرکہا : ”اے اہل قافلہ! اللہ عزوجل میری طرف سے تمہیں جزاء خیر عطا فرمائے ۔ اب میں تمہیں اپنی طرف سے الوداع کہتا ہوں اور (آخری ) سلام پیش کرتا ہوں۔احسان اور نیکی کاکام کرنے میں کسی کو ہرگز بے رغبتی نہیں ہونی چاہیئے ، یقینا جو محتاج کو محروم رکھتا ہے وہ خود محروم ہے ۔ میں وہ اژدہا ہوں کہ بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتا کر مصیبت سے نجات دلاتا ہوں، اس پر میں شکر ادا کرتا ہوں اور یقینا شکر ادا کرنا اچھی خصلت ہے ۔ جو نیکی کاکام کرتا ہے جب تک وہ زندہ رہے اس کی ضرورت کا سامان ختم نہیں ہوتا، جبکہ برائی کا انجام برائی ہی ہے ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!