Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

يتيم کی کفالت اور اس پر شفقت کرنا اور بيواؤں کی پرورش کرنا

(10)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:”ميں اور يتيم کی کفالت کرنے والا جنت ميں اس طرح ہوں گے۔” اور اپنی شہادت والی اور در ميان والی انگلی سے اشارہ فرمايا اور انہيں کشادہ کيا۔
( صحیح البخاری ، کتاب الطلاق ، باب اللعا ن وقول اللہ تعالی( والذین یرمون ازواجھم۔۔۔۔۔۔الخ ، الحدیث: ۵۳۰۴ ، ص ۴۵۸)
(11)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے ،رسولِ اکرم،شاہ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشاد فرمایا:”اپنے يا دوسرے کے يتيم بچے کی پرورش کرنے والا اور ميں جنت ميں اس طرح ہوں گے۔” اورراوی نے اپنی شہادت والی اور در ميانی انگلی ملاکراشارہ فرمايا۔
( صحیح مسلم ،کتاب الزھد ، باب فضل الاحسان الی الارملۃ ۔۔۔۔۔۔الخ ، ، الحدیث: ۷۴۶۹، ص ۱۱۹۴)
(12)۔۔۔۔۔۔نبی کريم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشادفرمایا:”جس نے کسی رشتہ دار يا غيررشتہ دار يتيم کی کفالت کی وہ اور ميں جنت ميں اس طرح ہوں گے جس طرح يہ ہيں۔” اور اپنی دونوں انگليوں کو ملايا ”اور جس نےتين بيٹيوں کوپالنے کی کوشش کی وہ جنتی ہے اور اس کے لئے اللہ عزوجل کی راہ ميں جہاد کرنے والے روزے داراورنمازی کااجرہے۔”


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(مجمع الزوائد،کتاب البروالصلۃ،باب فی الاولادوالاقارب۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۳۴۹۳،ج۸،ص۲۸۸)
(13)۔۔۔۔۔۔رسول اکرم، شفيع مُعظَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم نے ارشادفرمایا:”جس نےتين يتيموں کی پرورش کی وہ رات کو قيام کرنے والے، دن کو روزہ رکھنے والے اور صبح شام اللہ عزوجل کی راہ ميں اپنی تلوار سونتنے والے کی طرح ہے اورميں اور وہ جنت ميں دو بھائیوں کی طرح ہوں گے جيسا کہ يہ دو بہنيں ہيں۔”اوراپنی انگشتِ شہادت اوردرميانی انگلی کوملايا۔
( سنن ابن ماجۃ ، ابواب الادب ، باب حق الیتیم ، الحدیث: ۳۶۸۰ ، ص ۲۶۹۷)
(14)۔۔۔۔۔۔حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”جس نے مسلمانوں کے کسی يتيم بچے کے کھانے پينے کی ذمہ داری لی اللہ عزوجل اُسے جنت ميں داخل فرمائے گامگريہ کہ وہ ايساگناہ کرے جس کی معافی نہ ہو۔”
( جامع الترمذی ،ابواب البر و الصلۃ ، باب ماجاء فی رحمۃ الیتیم وکفالتہ ، الحدیث: ۱۹۱۷ ، ص ۱۸۴۵)
(15)۔۔۔۔۔۔دوسری روايت ميں یہ اضافہ ہے:”يہاں تک کہ وہ اس سے مستغنی ہو جائےتو اس کے لئے جنت واجب ہے۔” (المسندللامام احمد بن حنبل،حدیث مالک بن الحارث،الحدیث:۱۹۰۴۷،ج۷،ص۲۷)
(16)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”مسلمانوں کے گھروں ميں سب سے اچھا گھر وہ ہے جس ميں يتيم سے اچھاسلوک کيا جائے اور مسلمانوں کے گھروں ميں سے برا گھر وہ ہے جس ميں يتيم سے برا سلوک کيا جائے۔”
( سنن ابن ماجۃ، ابواب الادب ، باب حق الیتیم ، الحدیث: ۳۶۷۹، ج۵ ، ص ۲۶۹۷)


(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(17)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:ميں سب سے پہلے جنت کادروازہ کھولوں گا مگر ميں ايک عورت ديکھوں گا جو مجھ سے بھی سبقت لے جائے گی توميں اس سے پوچھوں گا:”تمہارا کيامعاملہ ہے اور تم کون ہو؟”تووہ کہے گی:”ميں وہ عورت ہوں جو اپنے يتيم بچوں کو لئے بيٹھی رہی۔”(اوران کی وجہ سے دوسرانکاح نہ کيا۔)
( مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند ابی ھریرۃ ، الحدیث: ۶۶۲۱، ج ۵ ، ص ۵۱۰)
(18)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت ميں ميری جان ہے!جس نے يتيم پررحم کيااور اس کے ساتھ نرم گفتگوکی نیزاس کی یتیمی اورمسکینی پررحم کیا اور اپنے پڑوسی پر اللہ عزوجل کے عطاکئے ہوئے(مال ودولت) کی فضیلت کی بناء پرتکبرنہ کیاتواللہ عزوجل بروزِقيامت اسے عذاب نہ دے گا۔”
( المعجم الاوسط ، الحدیث: ۸۸۲۸، ج۶، ص ۲۹۶)
error: Content is protected !!